حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 261
۲۶۱ سُوْرَةُ الْحَدِيدِ حقائق الفرقان وحی سے فرماتے ہیں یا عہدہ نبوت سے علاوہ بطور مشورہ کے فرماتے ہیں۔آپ نے فرمایا میں رسالت کے لحاظ سے یہ حکم نہیں دیتا۔اپنی ذاتی رائے سے تجھے کہتا ہوں۔اس نے نہ مانا اور کہا ورود ط مجھے اختیار حاصل ہے۔اس طرح إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا الهُكُمْ اللَّهُ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا (الكهف : 11) اس آیت میں شرک سے ممانعت اور اس امر کا بیان ہے کہ میں ایک بشر ہوں بشریت میں تمہاری مثل ہوں۔خبر دار کبھی شرک نہ کرنا ، مجھے خدا نہ کہ بیٹھنا ، نہ میری عبادت کرنا، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔اور ایسا ہی ان آیات کریمہ میں غور کرنے والا یقین کر سکتا ہے کہ اسلام کہاں تک شرک سے بیزاری ظاہر کرتا ہے۔( تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۹۵ تا ۲۰۰) ۲۲ - سَابِقُوا إلى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَ الْاَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَ رُسُلِهِ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ۔ترجمہ۔اپنے رب کی مغفرت کی طرف بڑھ جانے کی کوشش کرو اور اس بہشت کی طرف جس کی قیمت آسمان وزمین ہے۔تیار کی گئی ہے اُن لوگوں کے لئے جو اللہ اور اس کے رسول کو سچے دل سے مانتے ہیں۔یہ اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے۔تفسیر۔دوڑو اپنے رب کی معافی کی طرف اور بہشت کو جس کا پھیلاؤ ہے۔جیسے پھیلا ؤ آسمان اور زمین کا۔رکھی گئی ہے ان کے واسطے جو یقین لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔یہ بڑائی اللہ کی ہے۔دیوے اس کو جس کو چاہے اور اللہ کا فضل بڑا ہے۔فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۸۸ حاشیه ) جنت کے متعلق عام طور سے یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے۔کہ وہ آسمان پر ہے لیکن وَجَنَّةٍ لے اس کے سوا نہیں کہ میں تم سا ایک بشر ہوں مجھے حکم ہوتا ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہے وہ عمل نیک کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بلا وے۔