حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 255 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 255

حقائق الفرقان ۲۵۵ سُوْرَةُ الْحَدِيدِ آخر بھی ہے اور ظاہر بھی اور باطن بھی۔ھو الاول کے یہ معنی غلط کئے گئے ہیں کہ ایک وقت میں خدا اکیلا تھا۔پھر جہان بنایا۔دیانند یوں نے بھی غلطی کی ہے کہ کہا کہ چار ارب سال ہو گیا۔حالانکہ اگر مہاں سنکھ کو مہاں سنکھ میں مہاں سنکھ دفعہ بھی ضرب دیں۔تب بھی خدا کی ہستی کا پتہ نہیں لگ سکتا۔مگر قربان جائیے الحمد شریف کے جس نے رب العلمین فرما کر فیصلہ کر دیا۔سب لوگوں نے جہان کی تاریخیں لکھیں۔مگر قرآن نے اس کو چھوڑ دیا۔عیسائی بڑے بے ہنگم مؤرخ ہیں۔سات آٹھ ہزار سے نیچے ہی رہتے ہیں۔پانڈوؤں کی لڑائی مسیح سے چار ہزار برس پہلے ہوئی۔قرآن کے عجائبات میں سے یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کے بنانے کی کوئی تاریخ ہی نہیں بتائی۔دراصل کوئی ہے ہی نہیں۔آج بھی اللہ اول ہے اور آج ہی آخر بھی ہے جس وقت وہ مجھ کو بنارہا تھا۔نطفہ سے بھی پہلے بقول ہم چو سبزه با ربا روئیده ام۔۔۔الخل کے جب کہ اناج تھا۔پھر روٹی بنی۔خون بنا۔نطفہ بنا۔غرض کہ جس وقت وہ بنارہا تھا۔جتنا حصہ میرا بن چکا تھا۔ان سب وقتوں میں ربوبیت سے میری حفاظت فرما تا رہا۔وہ ہر چیز کے بنانے کے وقت اس کی ابتدا۔اوسط اور انتہا میں موجود ہوتا ہے۔اوّل: لَيْسَ قَبْلَهُ شَی (جس سے پہلے کوئی شئے نہ تھی) آخر : لَيْسَ بَعْدَہ شَینی (جس کے بعد کوئی شے نہیں) الظاهر : لَيْسَ فَوْقَهُ شَيئ ( اس پر کسی وقت کوئی حکمران نہیں ) الباطن: لَيْسَ دُونَهُ شَيئ ( وہی پوشیدہ ہے۔سوا اس کے کوئی چیز نہیں ہے) اللہ کی ربوبیت۔رحمانیت اور رحیمیت اور مالکیت۔اس سے کوئی الگ چیز ہو ہی نہیں سکتی۔ایسی کوئی چیز نہیں جس پر اللہ کی ان صفات کا تسلط نہ ہو۔لوگوں نے اس بات پر ہنسی اڑائی ہے کہ تم ہمیشہ کا بہشت کس طرح لو گے جب کہ صرف خدا ہی پیچھے رہ جائے گا۔رب ، رحمن ، رحیم ، مالک۔یہ چاروں صفتیں کبھی خالی نہیں رہتیں۔زمانہ ہر وقت فنا ہوتا ہے۔ماضی مر گیا۔مستقبل دنیا پر آیا نہیں حال کا کوئی لے میں نے سبزہ کی مانند کئی مرتبہ نشو نما پائی ہے۔