حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 250
حقائق الفرقان ۲۵۰ سُوْرَةُ الْوَاقِعَةِ ۷۲ تا ۷۴۔اَفَرَعَيْتُمُ النَّارَ الَّتِى تُوُرُونَ - وَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ نَحْنُ جَعَلْنَهَا تَذْكِرَةً وَ مَتَاعًا لِلْمُقْوِينَ - ترجمہ۔بھلا دیکھو تو سہی جو تم آگ سلگاتے ہو۔کیا تم نے اس کے درخت پیدا کئے ہیں یا ہم پیدا کرنے والے ہیں۔(آگ کا مدار تو لکڑی پر ہے ) ہم نے اس آگ کو بنایا یاد دلانے اور جنگل میں رہنے والوں کے نفع کے لئے۔تفسیر۔اس آگ کو جسے جلاتے ہو سمجھتے ہو کیا تم نے اس کا درخت پیدا کیا یا ہم پیدا کرنے والے ہیں۔- - فَلَا أُقْسِمُ بِمَوقع النُّجُومِ - ( تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۳۴ حاشیہ) بموقع النُّجُومِ۔ان لوگوں کے دل جن پر قرآن نازل ہو۔قرآن کو پاک لوگ ہی سمجھتے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ - تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۸۳) ترجمہ۔اسے وہی چھوئیں گے اور سمجھیں گے جو پاک کئے گئے ہیں۔تفسیر۔ثابت ہوتا ہے کہ زمانہ پاک میں اس ( قرآن مجید ) کے نسخے موجود تھے۔اسی واسطے فرما يالاً يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کیسا مشہور قصہ ہے کہ جب حضرت عمرؓ ایمان لائے تو اس وقت آپ نے اپنی بہن کے پاس سے بیسویں سورت کی نقل لینی چاہی۔ان تمام وجوہ کو جو قرآن کریم کی عصمت اور حفاظت کے ہم نے بیان کئے پڑھ کر اور ان میں غور کرنے کے بعد کون ایسا صاحب دل ہے جو قرآن کریم کی لانظیر عظمت میں شک کر سکتا ہے اور معاً اس نتیجہ صحیحہ پر پہنچنے سے رک سکتا ہے کہ دنیا میں قدیم سے اب تک کوئی ایسی کتاب نہیں۔جسے اکرام اور حفاظت کا شرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہو۔(نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۳۱۷) کوئی فرماں برداری بدوں فرمان کے نہیں ہو سکتی۔اور کوئی فرمان اس وقت تک عمل کے نیچے نہیں آتا۔جب تک کہ اس کی سمجھ نہ ہو۔پھر اس فرمان کے سمجھنے کے لئے کسی معلم کی ضرورت