حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 244 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 244

حقائق الفرقان ۲۷ - كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ - ۲۴۴ ترجمہ۔ہر ایک جو اس پر ہے فنا ہونے والا ہے۔تفسیر۔سب جو اس ( زمین ) پر ہیں فنا ہونے والے ہیں۔سُوْرَةُ الرَّحْمٰنِ فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ اول صفحہ ۱۴۲ حاشیه ) ۲۸- وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ - ترجمہ۔اور باقی رہے گی ذات تیرے رب کی جو جلال اور بزرگی والی ہے۔تفسیر۔يَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ۔خدا کی توجہ جس شے میں ہے وہ رہ جائے گی۔باقی سب فنا۔تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۸۳) بقاصرف ذات الہی کے واسطے ہے۔دیکھوا۔تمطاؤس ۶ باب ۱۶۔لفظ وجہ کے معنی لغت عربی میں دیکھو۔الْوَجْهُ مُسْتَقْبَلُ كُلَّ شَيْءٍ وَنَفْسُ الشَّيني یعنی وَجہ ہر چیز کے حصہ مقدم اور نفس شے کو کہتے ہیں۔اس لئے ہم نے اردو ترجمے میں وجہ کا ترجمہ ذات کیا ہے۔فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب حصہ اول۔صفحہ ۱۴۲) ۳۴- يُمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوا لَا تَنْفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطن - ترجمہ۔اے جماعت جن و انس کی ! اگر تم میں طاقت ہے کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جا سکو تو نکل بھا گو۔نکل ہی نہ سکو گے مگر پروانگی کے ساتھ۔تفسیر۔کوئی خوبی اگر کسی میں ہے تو اس کا پیدا کرنے والا وہی اللہ ہے۔اسی طرح اگر تم کسی کی اس لئے اطاعت کرتے ہو کہ وہ حسن ہے۔تو سب محسنوں سے بڑا حسن تو اللہ ہے۔جس نے تمہارے محسن کو بھی سب سامان اپنی جناب سے دیا اور پھر اس سامان سے تمتع حاصل کرنے کا موقع اور قومی بھی اُسی کے دیئے ہوئے ہیں۔اگر کسی کی اطاعت اس لئے کرتے ہو کہ وہ بادشاہ حکمران ہے۔تو تم خیال کرو۔اللہ وہ احکم الحاکمین ہے۔جس کا احاطہ سلطنت اس قدر وسیع ہے کہ تم اس سے نکل کر کہیں باہر نہیں جاسکتے چنانچہ فرماتا ہے۔