حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 15 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 15

حقائق الفرقان ۱۵ سُوْرَةُ يُس سُوْرَةُ يُسَ مَكِيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ لیس کو اللہ کے بابرکت نام سے پڑھنا شروع کرتے ہیں جو رحمن و رحیم ہے۔اس سورہ میں حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت ، قیامت کا ثبوت ، احباء کی کامیابی ، اعداء کی ناکامی کا بیان ہے۔۲ تا ۵- ليس - وَ الْقُرْآنِ الْحَكِيمِ - إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ - ترجمہ۔اے انسان کامل اور سردار قابل۔اس حکمت والے قرآن کی قسم ہے۔کچھ شک نہیں بے شک بے شک تو رسول ہے۔( تجھ میں یہ کمال ہے کہ تو ) سیدھی راہ پر ہے۔تفسیر۔لیں۔اے انسانِ کامل! اے سردار ! کامل انسان جو بات کہتا ہے وہ سچی ہوتی ہے۔بڑے بڑے سردار بھی جھوٹ نہیں بولتے۔وَ الْقُرْآنِ الْحَكِيمِ - انسان کامل ہونا اور پھر حق و حکمت سے بھری ہوئی کتاب تیرے مرسل ہونے کا ثبوت ہے پھر لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ خود اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کوئی صداقت و حکمت کی بات نہیں جو تو نہیں لا یا۔اور تو اگلے نبیوں کے طرز پر ہے۔عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ۔وہ راہ جس پر چلنے سے انسان خدا کے حضور پہنچ جاتا اور ادھر اُدھر ہونے سے مشکلات میں پڑتا ہے۔تو اس پر ہے۔یہ بھی صداقت کا ثبوت ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۵۱ ۵۲ مورخه ۲۷ /اکتوبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۰) لیں۔وہ کامل انسان اور کامل سید ، سردار۔تشھید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۷۶)