حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 16
حقائق الفرقان ۱۶ سُوْرَةُ يُسَ ، - تَنْزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ ـ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا أَنْذِرَ أَبَاؤُهُمْ فَهُمْ غُفِلُونَ - ترجمہ۔اتارا ہوا غالب کا ( یعنی تو بھی غالب ہو گا ) سچی کوشش پر بدلہ دینے والے کا۔نتیجہ یہ ہیے کہ تو ڈرا اُن کو جن تَنزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ۔یہ اور ثبوت ہے۔قرآن اور اس کے لانے والے کی صداقت ا اُن کو جن کے قریب والے نہیں ڈرائے گئے اور وہ غافل ہیں۔کا۔کیونکہ مومنوں کے شاملِ حال رحمتِ باری تعالیٰ ہوگی اور کفار پر عذاب آئے گا۔مَا انْذِرَ اباؤُهُمْ۔قریب زمانہ یعنی ان کے باپ دادا میں نبی نہیں آیا۔چونکہ یہ لوگ غافل ہو گئے۔اور خدا تعالیٰ کو بھول کر بت پرستی میں محو ہو گئے۔اس لئے ضروری تھا کہ ان میں کوئی نبی آوے اس زمانہ میں بھی امراء ، علماء، فقراء ، تینوں مصلحان قوم کی حالت ایسی تھی تو خدا کا ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۵۱ ۵۲ مورخه ۲۷ اکتوبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۰) فرستادہ آیا۔لَقَد حَقَّ الْقَولُ عَلَى أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ - ترجمہ۔بے شک پیشگوئی ان پر ثابت ہو چکی ہے تو وہ اکثر تو مانیں گے ہی نہیں۔تفسیر۔ثابت ہو چکی ہے بات ان بہتوں پر سوئے نہ مانیں گے۔فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحہ ۳۱۹ حاشیہ) و - إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُونَ - ترجمہ۔ہم ڈال دیں گے ان کی گردنوں میں طوق تو وہ ان کی ٹھوڑیوں تک ہوں گے تو وہ سر نہ جھکا سکیں گے۔تفسیر - في اعناقهم أهلاً - نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قید میں جب کفار آئے تو یہی أَعْنَاقِهِمْ حالت تھی اور اس طرح ظاہری طور پر بھی یہ بات پوری ہوئی۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۵۱، ۵۲ مورخه ۲۷ اکتوبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۰) ١٠ وَجَعَلْنَا مِنْ بَيْنِ اَيْدِيهِمْ سَدًّا وَ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَهُمْ فَهُمْ وور لا يُبْصِرُونَ - ترجمہ۔اور ہم نے بنادی ہے اُن کے آگے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار پھر ہم نے ان کو