حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 235 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 235

حقائق الفرقان ۲۳۵ سُورَةُ النَّجْمِ قَالَ اِمَامُ الْأَعْمَةِ ابْنُ خُزَيْمَةَ إِنَّ هَذِهِ الْقِصَّةَ مِنْ وَضْعِ الزَّنَادِقَةِ قَالَ الرَّازِيُّ هَذِهِ الْقِصَّةُ بَاطِلَةٌ مَوْضُوعَةٌ لَّا يَجُوزُ الْقَوْلُ بِهَا۔قَالَ اللهُ تَعَالَى وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌّ يُوحَى وَقَالَ اللهُ تَعَالَى سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسى وَلَا شَكَ أَنَّ مَنْ جَوْزَ عَلَى الرَّسُولِ تَعْظِيمَ الْأَوْثَانِ فَقَدْ كَفَرَ لِأَنَّ مِنَ الْمَعْلُومِ بِالضَّرُورَةِ أَنَّ أَعْظَمَ سَعْيِهِ كَانَ فِي نَفْي الْأَوْثَانِ۔(تفسير السراج المنير سورة الحج) قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي تَفْسِيرِهِ أَنَّ جَمِيعَ الرَّوَايَاتِ فِي هَذَا الْبَابِ إِمَّا مُرْسِلَةٌ أَوْ مُنْقَطِعَةٌ لَا تَقُوْمُ الْحُجَّةُ بِشَيْءٍ مِنْهَاثُمَّ قَالَ فَقَدْ عَرَفْنَاكَ أَنَّهَا جَمِيعُهَا لَا تَقُوْمُ بِهَا الحُجَّةُ لِأَنَّهُ لَمْ يُرُوهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْقِحَةِ وَلَا أَسْنَدَهَا ثِقَةٌ بِسَنَدٍ صَحِيحِ أَوْسَلِيْمٍ مُتَّصِلٍ (فتح البيان مختصرًا) وَ قَالَ فِي الْكَبِيرِ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ القِصَّةِ فَقَالَ هذَا وَضْعُ مِّنَ الزَّنَادِقَةِ وَصَنَّفَ فِيْهِ كِتَابًا تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۰۲٬۲۰۱) امام الائمۃ ابن خزیمہ کہتے ہیں کہ اس قصہ کو زندیقوں نے وضع کیا ہے۔امام رازی کہتے ہیں۔یہ قصہ جھوٹا بناوٹی ہے۔اس کا مانا نا جائز ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نبی اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتا۔یہ تو وہی کہتا ہے جو اس کے دل میں وحی کی جاتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عنقریب ہم تجھے قرآن پڑھاتے ہیں۔پھر تو اسے فراموش نہ کرے گا۔جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ کہنا وار کھے کہ آپ نے بنوں کی تعظیم کی۔ایسا شخص بیشک کافر ہے۔اس لئے کہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بھاری کوشش جنوں کا نابود کرنا تھا۔ابن کثیرا اپنی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اس باب میں جتنی روایتیں ہیں یا تو مرسلہ ہیں یا منقطعہ ہیں اور ایسی روایتیں حجت نہیں ہوا کرتیں۔پھر امام صاحب فرماتے ہیں۔ہم تجھے سمجھا چکے ہیں کہ یہ تمام روایتیں حجت پکڑنے کے قابل نہیں ہیں۔کیونکہ اہلِ صحت میں سے کسی نے انہیں روایت نہیں کیا اور نہ کسی ثقہ نے سند صحیح یا سلیم متصل سے انہیں اسناد کیا۔اور امام صاحب تفسیر کبیر میں کہتے ہیں۔محمد بن اسحاق بن خزیمہ سے روایت ہے کہ اس سے اس قصہ کی بابت سوال کیا گیا۔اس نے جواب دیا کہ زندیقوں نے اسے گھڑا ہے اور اس نے اس بارہ میں ایک مستقل کتاب تصنیف کی ہے۔