حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 229 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 229

حقائق الفرقان ۲۲۹ سُوْرَةُ النَّجْمِ ما اوحی میں ابہام نہیں ماعر بی لفظ موصولہ اور معرفہ ہے۔اولی اس کا صلہ ہے۔ما اوحی کیا چیز ہے۔یہی قرآن کریم اور حضور علیہ السلام کی تمام پاک تعلیم جس کو اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ روح بھی فرمایا ہے۔جہاں فرمایا وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا (الشوری:۵۳) اور یہ وہی روح ہے جو الوہیت اور عبودیت کے کامل میل سے پیدا ہوتی ہے بلکہ یوں کہئے کہ اس کا اللہ سے فیضان ہوتا ہے اللهُمَّ آيدني بِرُوحِ الْقُدُسِ۔آمین۔اب اس کی عمدگی اور راستی کی نسبت فرماتا اور مدعی الہام کی حالت کو بتاتا ہے۔مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاى افْتَمَارُونَهُ عَلَى مَا يَرُى - تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۷۰) ۱۴ تا ۱۹ وَلَقَدْ رَاهُ نَزَلَةَ أَخْرى - عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى - عِنْدَهَا جَنَّةٌ المأوى - إِذْ يَغْشَى السّدُرَةَ مَا يَغْشَى مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى لَقَدْ رَأَى مِنْ ایتِ رَبِّهِ الكبرى - ترجمہ۔اور بے شک اس نے اس کا دوبارہ نزول بھی دیکھا۔سدرۃ المنتہی کے پاس۔( یہاں کونسی بیری مراد ہے ) وہ جس کے نزدیک جنت آرام گاہ ہے۔جب اس بیری کو اعلیٰ درجہ کے انوار ڈھانکے ہوئے تھے (جو بیان کی قوت سے بالا تر ہیں)۔نہ اس کی نظر نے بھی کی (حق سے ) اور نہ وہ گستاخ ہوا۔بے شک اس نے اپنے رب کی بہت نشانیاں دیکھیں۔تفسیر۔اور یقیناً اس نے اسے بار دیگر دیکھا ( یعنی نظر ثانی کی ) سدرۃ المنتہی کے پاس (سب سے بڑی بیری) جس کے پاس جنت الماوی ہے۔اس سدرہ ( بیری) کو بڑے اعلیٰ درجہ کے انوار ڈھانکے ہوئے ہیں۔اس کی آنکھ نے کجی نہیں کی۔اور غلطی نہیں کھائی۔ضرور اپنے رب کے بڑے بڑے نشانات دیکھے۔تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ اے حاشیہ ) عرب کا یہ بھی دستور تھا۔جیسے قاضی بیضاوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ جب بڑے بڑے کاموں کے واسطے پبلک اور عام اہل الرائے کی رائے لی جاتی تو کسی سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ