حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 226 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 226

حقائق الفرقان ۲۲۶ سُورَةُ النَّجْمِ ۶ تا ۱۰۔عَلَمَهُ شَدِيدُ الْقُوى - ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَى _ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعلى - ثُمَّ دَنَا فَتَدَ لى _ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ آدنی - ترجمہ۔اس کو سکھایا بڑے طاقت ور نے۔دل گردہ والے بڑے ہاتھ والے نے (اُس نے اثر لیا یا نہیں تو ارشاد ہوتا ہے کہ ) ٹھیک و درست ہو گیا۔( کس درجہ پر ) بڑے ہی اونچے درجہ پر (جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا )۔(اس کمال سے کیا چاہا ) اس نے قرب الہی چاہا ( پھر کیا ہوا ) اللہ اُس کی طرف جھکا۔پھر وہ دو کمانوں کے ملنے سے بھی زیادہ تر قریب ہو گیا۔تفسیر۔سکھایا اس کو بڑے طاقتور نے۔بڑے جگرے کا تھا پس پورا نظر آیا اور وہ اب بلند کنارے پر ہے۔تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۶۷ حاشیہ) قانونِ قدرت کا عام قاعدہ ہے۔جس قدر کوئی چیز دوسری چیز سے تعلق پیدا کرے گی۔اسی قدر اس دوسری چیز سے متاثر اور متحد ہوگی۔ایک عادل بلکہ ہمہ عدل مالک اور علیم وخبیر سلطان کے لائق اور جان شار ، چست و ہوشیار، رضامندی کے طالب نوکر اور خادم کو جو جو انعام اور اکرام ملیں گے اور ایسے مقتدر اور مقدس بادشاہ کے ایسے پیارے خادم جن جن انعامات اور الطاف کے مورد ہوں گے۔ویسے نالائق اور سکتے خود پسند ، مطلبی ، کاہل، نام کے نوکر اور جھوٹے خادم ہرگز ہرگز ہر گز نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ کی ذات سے جس قدر اس کے بندوں کو تعلق ہو گا اسی قدر وہ قابلِ انعام ہوں گے جتنی بندگی اور عبودیت کامل ہوگی اتنا ہی الوہیت کا میل اس سے زیادہ ہوگا اور بقدر ترقی عبودیت روح القدس کا فیضان ہوتا ہے۔لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَ لَوْ كَانُوا اباء هم أو ابناء هُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَبِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيْمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحِ منه (المجادله: ۲۳) لے تو نہ پائے گا ان لوگوں کو جو اللہ اور آخرت کے دن کو دل سے سچا جانتے ہیں کہ وہ ایسوں سے دوستی کریں جو مخالف ہوئے اللہ اور اس کے رسول کے گو وہ ان کے مخالف باپ ہی ہوں یا ان کے بیٹے یا بھائی ہی ہوں یا اُن کے کنبے کے۔یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان بھیج دیا، محفوظ کر دیا ہے اور ان کی تائید فرمائی ہے روح القدس سے