حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 225
حقائق الفرقان ۲۲۵ سُوْرَةُ النَّجْمِ جنوب، شمال کے راستوں کا علم ہوتا ہے۔جب جسمانی بہتری و بہبودی کے لئے یہ انتظام ہے۔تو روحانی دنیا میں صراط مستقیم کی ہدایت کے واسطے کسی النجم کی ضرورت کیوں نہ ہو۔اس کے بعد فرمایا کہ تین وصف اس راہنما میں ہونے ضروری ہیں۔ایک تو وہ خود واقف کار ہو۔اسے نیکی و بدی نافع وضار کا علم ہو۔دوم وہ اجنبی نہ ہو۔اس ملک کے رسم و رواج ، مذاق، عادات، حالات سے آگاہ ہو۔اور اس ملک کے باشندے بھی اس کے کیریکٹر، علم، قابلیت کو خوب جانتے ہوں تا کہ نہ وہ دھو کہ کھائے۔نہ اس کے بارے میں احتمال ہو کہ یہ ہمیں دھوکہ دے گا۔سوم۔عالم باعمل ہو۔اپنے علم کو اپنی اور اپنے بھائی بندوں کی اصلاح میں خرچ کرنے والا ہو۔نہ یہ کہ وہ اپنے علم سے مفاسد وشرارت ވހ کو بڑھانے والا ہو۔یہ اوصاف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اعلیٰ درجے کے انتہائی کمال کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔آپ کا علم ایسا کہ شدید القوی نے آپ کو سکھایا وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلیٰ کا خطاب پاکر يُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ - (الجمعه: ۳) آپ کی شان میں آیا۔پھر جو کچھ آپ نے فرمایا۔وہ ھوی نہیں تھا۔بلکہ وَحْيٌ يُوحی تھا۔اس لئے آپ پر مَاضَل خوب صادق آتا ہے۔اور اجنبی نہیں۔اس کے لئے صاحِبُكُمْ فرمایا۔عرب کے عمائد و اہل الرائے آپ کے مکارم اخلاق کے مقتر تھے۔آپ نے اپنے اعلیٰ کیریکٹر کا دعولی بڑی تحدّی سے پیش کیا اور فرمایا۔فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ۔(یونس : ۱۷) امین کا لقب تو آپ پا ہی چکے تھے اور یہ کہ آپ اپنے علم سے لوگوں کو سیدھی راہ پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔واقعات اس کی تصدیق کر رہے تھے۔وہ لوگ جو زنا ، شراب، جوا بازی ایسے بدترین گناہوں کو اپنی مجالس میں بڑے فخر کے ساتھ ذکر فرماتے تھے۔وہ اپنے کئے پر نادم ہوئے اور شراب کے پانچ بلکہ آٹھ وقتوں کی بجائے اتنے وقتوں کی نمازیں پڑھنے لگے۔ایسا ہی ہر بدی کو چھوڑ کر اس کے مقابلہ میں انہوں نے ایک نیکی اختیار کر لی۔پس ما توی آپ پر صادق آیا۔تشخیذ الا ذبان جلد نمبر ۵ ما مئی ۱۹۱۲ء صفحه ۲۲۵-۲۲۶) لے ان کو کتاب و دانائی کی باتیں سکھاتا ہے۔سے بے شک میں رہ چکا ہوں بڑی عمر اس سے پہلے تم میں تو کیا تم کو کچھ بھی عقل نہیں ہے۔