حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 224 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 224

حقائق الفرقان ۲۲۴ آیات ثلث عَلَمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى - ذُو مِزَةٍ فَاسْتَوَى وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى سُوْرَةُ النَّجْمِ تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۶۶ ۱۶۷) جب کوئی بادی دنیا میں آتا ہے تو اس کی شناخت کے کئی طریق ہوتے ہیں۔اول۔جاہل اور بے علم نہ ہو۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے بادی کے لئے ضروری ہے کہ وہ نادان اور بے خبر نہ ہو۔اب کتاب اللہ کو پڑھو اور دیکھو کہ جو معارف اور حقائق اس میں بیان کئے گئے ہیں۔وہ ایسے ہیں کہ کسی جاہل اور نادان کے خیالات کا نتیجہ ہو سکتے ہوں۔سوچو! اور پھر سوچو!!! نادان ایسی معرفت اور روح و راستی سے بھری ہوئی باتیں نہیں کر سکتے۔دوم۔وہ بادی اجنبی نہ ہو۔کیونکہ ایک ناواقف انسان دور دراز ملک میں جا کر باوجود بدکار اور شریر ہونے کے بھی چند روز تصنع اور ریا کاری کے طور پر اپنے آپکونیک ظاہر کر سکتا ہے۔پس بادی کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان لوگوں کا واقف ہو۔اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعواے صاف ہے کہ مَاضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَاغَوى تیسری بات یہ ہے کہ بادی یا امام یا مرشد اپنے بچے علوم کے مطابق عمل درآمد بھی کرتا ہو۔اوروں کو بتلادے اور خود نہ کرے۔پس اس امر کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت فرمایا ہے۔مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَاغوی۔حضور کے عملدرآمد کا یہ حال ہے کہ جنابہ صدیقہ علیہا السلام نے ایک لفظ میں سوانح عمری بیان فرما دی كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنُ یعنی آپ کے اعمال و افعال بالکل قرآن کریم ہی کے مطابق ہیں۔الحکم جلد ۳ نمبر ۱۴ مورخه ۱۹ را پریل ۱۸۹۹ء صفحه ۵) اللہ تعالیٰ نے ایک ہادی کی ضرورت اور پھر اس میں جو ضروری اوصاف ہونے چاہئیں۔پھر ان اوصاف کا اعلیٰ و اکمل و اتم طور پر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات میں پایا جانا جس دل آویز و دلنشین پیرائے میں بیان کیا ہے۔وہ قرآن مجید کی ان اعجازی خواص سے ہے۔جو بالخصوص اسی کتاب حکیم میں پائے جاتے ہیں۔پہلے تو والنَّجْمِ إِذَا هَوَی فرما کر جسمانی انتظام سے روحانی نظام کی طرف متوجہ کیا۔النجم کے سمت الراس سے نیچے ہونے کی وجہ سے مغرب ، مشرق، لے سکھایا اس کو بڑے طاقتور نے۔بڑے جگرے کا تھا بس پورا نظر آیا اور وہ اب بلند کنارے پر ہے۔