حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 220
حقائق الفرقان ۲۲۰ سُورَةُ الطُّورِ چاہیے کہ لے آئیں کوئی کلام اسی طرح کا جب وہ سچے ہیں۔ تفسیر۔ کیا وہ کہتے ہیں اس کو ایسے ہی گھڑ لیا ہے۔ نہیں بلکہ وہ ایمان نہیں لاتے پھر اس کے مانند کوئی حدیث لاویں اگر وہ سچے ہیں ۔ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب صفحه ۲۵۴ حاشیه ) باری تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اس کتاب کو تم لوگ مصنوعی جانتے ہو تو اس کے مثل کوئی کتاب لاؤ اور فرمایا وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ - فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوا وَ لَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ - (البقره: ۲۵،۲۴) اور مکے میں شرفاء وشعرائے قوم قریش کو خطاب فرمایا۔ قُلْ لَبِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِئْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هُذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا - (بنی اسرائیل: ۸۹ ) ( فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۵۴) ۳۶ تا ۳۸ - اَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَلِقُونَ أَمْ خَلَقُوا السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ بَلْ لَّا يُوْقِنُونَ - أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ - ترجمہ ۔ کیا وہ آپ پیدا ہو گئے ہیں کسی کے پیدا کئے بغیر یا وہ خود پیدا کرنے والے ہیں۔ یا انہوں نے پیدا کیا آسمان وزمین کو کچھ بھی نہیں وہ تو یقین ہی نہیں کرتے ( بڑے بد عقل ، اکھڑ ، ناسمجھ ہیں ) ۔ کیا ان کے نزدیک تیرے رب کے خزانے ہیں یا وہ داروغہ چودھری ہیں ۔ ( یا کوتوال وز بر دست ) ۔ تفسیر۔ ایک آریہ کے اعتراض یہ عالم کس نے بنایا؟ کیوں بنایا؟ کب بنایا؟ کن اشیاء سے کس لے اگر تم شک میں ہو اسی سے جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا تو اس کے مثل کوئی ایک ٹکڑا لاؤ اور اللہ کے سوا ا اپنے گواہوں کو بلاؤ اگر سچے ہو۔ پھر اگر تم نے نہ کیا اور ہر گز نہ کر سکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ ۲۔ تو کہہ دے کہ اگر جن اور انس اس قرآن کے مثل لانے پر متفق ہو جاویں تو اس کے مثل نہ لاویں گے گو باہم دگر مددگار بن جاویں۔