حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 208 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 208

حقائق الفرقان ۲۰۸ سُوْرَةُ قَ ٹڈی دل جماعت۔اب کس قدر صاف معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ جہنم کو فرمائے گا کیا تو بھر چکی وہ عرض کرے گی کیا کچھ اور بھی ہے۔تب اللہ تعالیٰ شریروں اور ظالموں اور انکی جماعت کو جو جہنم کے لائق ہیں سب کو جہنم میں ڈال دے گا۔خلاصه مطلب یہ ہوا کہ نر کی اور جہنمی نرک اور جہنم میں داخل کئے جاویں گے اور یہی انصاف و عدل ہے۔اب بتاؤ اس پر اعتراض کیا ہوا؟ ( نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۷۷ تا۲۷۹) اسی آیت پر پادریوں کے اعتراض کے جواب میں فرمایا :۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ حدیث (يَضَعُ فِيهَا رَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمَة) کا مطلب صاف اور درست ہے مگر زبان اور محاورہ عرب نہ جاننے کے سبب سے پادری صاحب اس بھول بھلیاں میں جا پڑے ہیں جو خود ان کے چالاک ہاتھوں کی کرتوت ہے۔اصل منشا آپ کے اعتراض کا جملہ يَضَعُ فِيهَا رَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمُہ ہے جس کا ترجمہ ہے رکھے گا اس میں عزت والا اپنا قدم۔اب ہم آپ کو ان الفاظ کا صحیح مطلب اور منشا بتاتے ہیں جن سے آپ کو بوجه عدم فہم زبان عرب دھوکا ہوا ہے۔گو الفاظ تو صاف تھے اور محاورہ عرب کی طرف ذرا ہی سی رجوع کرنے سے بآسانی حل ہو سکتے تھے مگر چونکہ عادةً نصاری کا خاصہ ہے کہ کسی کلام کا اصل مقصد عمدا یا جہلا بدوں توضیح و تفسیر نہیں سمجھتے یا سمجھ نہیں سکتے اور یہ عادت نسلاً بعد نسل حضرات حوار بین سے وراثت میں انہیں ملی ہے کہ وہ سادہ مزاج بھی حضرت مسیح کے کلام کو بدوں تفسیر و تمثیل سمجھ نہیں سکتے تھے۔اس لئے ضرور ہوا کہ ہم پوری تفسیر ان الفاظ کی کر دیں۔سنو! جواب ۱۔پہلا لفظ جس پر پادری صاحب کو دھوکا ہوا ہے۔لفظ رب ہے۔سننا چاہیے کہ رب کا لفظ بڑے بڑے آدمیوں پر بولا گیا ہے۔جیسے یوسف علیہ السلام کا قول اُس زندانی کو اُڈ کرنی عند ربك (يوسف:۴۳) کہ مجھے اپنے آقا کے روبرو یاد کرنا۔اور فرعون کہتا ہے۔آنا ربكُمُ الأغلى - النازعات: ۲۵) میں تمہارا بڑا رب ہوں۔