حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 207 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 207

حقائق الفرقان ۲۰۷ سُوْرَةُ قَ میرا ذکر کیجو اور اسی رب کی جمع ارباب ہے جس کے متعلق فرمایا وَارْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ اَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ - (يوسف:۴۰)۔۳۔عزت :۔بڑائی ،حمایت ، جاہلوں کی ہٹ ، قرآن شریف میں شریروں کے متعلق فرمایا۔اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ (البقره: ۲۰۷) اور فرمایا ہے کہ جب شریر کو عذاب اور دکھ دیا گیا تو کہا جاوے گا۔ذُقُ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ - (الدخان:۵۰) پس رب العزت کے یہ معنی بھی ہوئے۔متکبر، ضدی، ہٹ والا۔۴۔جبار کے معنی مصلح کے بھی ہیں۔اور ظالم کے بھی مصلح کو تو عذاب ہو نہیں سکتا ہے۔اور ظالم کے حق میں آیا ہے۔خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ۔مشکوۃ صفحہ ۴۹۶ میں ہے۔ھب ھب دوزخ میں ایک وادی ہے اس میں جبار لوگ داخل ہوں گے۔۵۔قدم۔جس شخص کو کہیں بھیجا جاوے۔اُسے قدم کہتے ہیں۔قاموس اللغۃ میں ہے قدمه الَّذِينَ قَدَمُهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِ فَهُمْ قَدَمُ اللهِ لِلنَّارِ - كَمَا أَنَّ الْخِيَارَ قَدَمُ اللَّهِ لِلْجَنَّةِ - وَ وَضْعُ القَدَمِ مَثَلُ لِلرَّدْعِ وَالْقَمْحِ - احادیث میں ہے دِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ تَحْتَ قَدَھی۔ترجمہ۔قدم اس کا وہ بد لوگ ہیں جن کو وہ حسب ان کے اعمال کے آگ میں بھیجے گا۔جیسے کہ برگزیدہ لوگ بہشت کیلئے قدم اللہ ہیں۔یعنی وہ جنہیں حسب ان کے اعمال کے اللہ تعالیٰ بہشت میں بھیجے گا۔اور قدم رکھنے کے اصل معنی ہیں روک دینا اور بیخ کنی کر دینا۔جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جاہلیت کے خون میرے قدم کے نیچے رکھے گئے ہیں۔یعنی میں ان کے انتقاموں سے قوم کو منع کرتا ہوں اور ان کو مسلتا ہوں۔۲۔رجل کے معنے قدم جماعت۔عربی زبان میں آتا ہے رِجُلٌ مِّنْ جَرَادٍ یعنی ٹڈیوں کا لے کیا کئی معبود الگ الگ اچھے یا اکیلا زبردست اللہ اچھا۔ہے تو اس کو غرور آمادہ کرتا ہے گناہ پر تو ایسے کے لئے جہنم ہی بس ہے۔۳ چکھ تو تو بڑا عزت والا سردار تھا۔کے قدم سے مراد وہ شریر لوگ ہیں جن کو خدا نے دوزخ کے آگے دھر دیا۔پس وہ لوگ خدا کی طرف سے آگ کے لئے آگے کیے گئے۔جیسے اچھے لوگ خدا کی طرف سے جنت کی جانب آگے کیے گئے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی روک اور تھام رکھے گا۔