حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 196 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 196

حقائق الفرقان ۱۹۶ سُورَةُ الحُجُرَات کسی نے چرالی ہے۔ایک دن جب میں نے اپنے مکان سے الماریاں اٹھوائیں تو کیا دیکھتا ہوں الماری کے پیچھے بیچوں بیچ کتاب پڑی ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ کتاب میں نے رکھی ہے اور وہ بچھے جا پڑی۔اس وقت مجھے دو معرفت کے نکتے کھلے۔ایک تو مجھے ملامت ہوئی کہ میں نے دوسرے پر بدگمانی کیوں کی۔دوم میں نے صدمہ کیوں اٹھایا۔خدا کی کتاب اس سے بھی زیادہ عزیز اور عمدہ میرے پاس موجود تھی۔اسی طرح میرا ایک بستر تھا جس کی کوئی آٹھ نہیں ہوں گی۔ایک نہایت عمدہ ٹوپی مجھے کسی نے بھیجی جس پر طلائی کام ہوا تھا۔ایک عورت اجنبی ہمارے گھر میں تھی۔اسے اس کام کا بہت شوق تھا۔اس نے اس کے دیکھنے میں بہت دلچسپی لی۔تھوڑی دیر بعد وہ ٹوپی گم ہو گئی۔مجھے اس کے گم ہونے کا کوئی صدمہ تو نہ ہوا کیونکہ نہ میرے سر پر پوری آتی تھی نہ میرے بچوں کے سر پر۔مگر میرے نفس نے اس طرف توجہ کی کہ اس عورت کے پسند آ گئی ہوگی۔مدت گذرگئی۔اس عورت کے چلے جانے کے بعد جب بستر کو جھاڑنے کیلئے کھولا گیا تو اس کی ایک تہہ میں سے نکل آئی۔دیکھو بدظن کیسا خطر ناک ہے اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کو سکھاتا ہے جیسا کہ اس نے محض اپنے فضل سے میری راہنمائی کی۔اور لوگوں سے بھی ایسے معاملات ہوتے ہوں گے مگر تم نصیحت نہیں پکڑتے۔اس بدظنی کی جڑھ ہے ” کرید خواہ مخواہ کسی کے حالات کی جستجو اور تاڑ بازی۔اس لئے فرماتا ہے وَلا تَجَسَّسُوا اور پھر اس تجسس سے غیبت کا مرض پیدا ہوتا ہے۔ان آیات میں تم کو یہ بھی سمجھایا گیا ہے کہ گناہ شروع میں بہت چھوٹا ہوتا ہے مگر آخر میں بہت بڑا ہو جاتا ہے جیسے بڑ کا پیج دیکھنے میں کتنا چھوٹا ہے۔لیکن پھر بعض جڑیں ایک ایک میل تک چلی گئی ہیں۔میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہو۔اور بدی کو اس کے ابتداء میں چھوڑ دو۔( بدر جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۱۸ / نومبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱) کسی دوسرے کو حقارت سے نہ دیکھو بلکہ مناسب یہ ہے کہ اگر کسی کو اللہ نے علم ، طاقت اور آبرودی ہے تو اس کے شکریہ میں اس کی جو اس نعمت سے متمتع نہیں مدد کرے نہ یہ کہ اس پر تمسخر