حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 195 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 195

حقائق الفرقان ۱۹۵ سُورَةُ الْحُجُرَاتِ جب بعض آدمیوں کو آرام ملتا ہے۔ فکر معاش سے گونہ بے فکری حاصل ہوتی ہے۔ وہ نکھے بیٹھنے لگتے ہیں۔ اب اور کوئی مشغلہ تو ہے نہیں۔ تمسخر کی خو ڈال لیتے ہیں۔ یہ تمسخر کبھی زبان سے ہوتا ہے۔ کبھی اعضاء سے کبھی تحریر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس تمسخر کا نتیجہ بہت برا ہے۔ وحدت باطل ہو جاتی ہے۔ پھر وحدت جس قوم میں نہ ہو وہ بجائے ترقی کے ہلاک ہو جاتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک عورت کو مار رہے تھے یہاں تک کہ اسے کہا جاتا کہ زنیت سرقت تو نے زنا کیا۔ تو نے چوری کی ۔ ایک سننے والی پر اس کا اثر ہوا اور اس نے دعا کی کہ الہی میری اولاد ایسی نہ ہو۔ گود میں لڑکا بول اٹھا کہ النبی مجھے ایسا ہی بنائیو۔ کیونکہ اس عورت پر بدظنی کی جا رہی ہے۔ یہ واقع میں بہت اچھی ہے۔ اسی طرح ایک اور کا ذکر ہے کہ ماں نے دعا کی۔ انہی میرا بچہ ایسا ہی ہو۔ مگر بچے نے کہا کہ النبی میں ایسا نہ بنوں ۔ غرض کسی کو کسی کے حالات کی کیا خبر ہو سکتی ہے۔ ہر ایک کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔ ممکن ہے کہ ایک شخص ایسا نہ ہو جیسا اسے سمجھا جاتا ہے۔ لوگوں کی نگاہ میں حقیر ہو مگر خدا کے نزدیک مقرب ہو پھر الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیم کے مطابق ممکن ہے۔ جس سے تمسخر کیا جاتا ہے اس کا انجام اچھا ہو۔ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاء - آیت میں آیا ہے۔ یہاں عورتیں بیٹھی ہوئی نہیں مگر آدمی کا نفس بھی مؤنث ہے۔ ہر ایک اس کو مرا در رکھ سکتا ہے۔ دوم اپنے اپنے گھروں میں جا کر یہ بات پہنچا دو۔ کہ کوئی عورت دوسری عورت کی تحقیر نہ کرے۔ اور اس سے ٹھٹھا نہ کرے۔ تم ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نام نہ رکھو۔ تم کسی کا برا نام رکھو گے تو تمہارا نام اس سے پہلے فاسق ہو چکا۔ مومن ہونے کے بعد فاسق نام رکھا نا بہت ہی بری بات ہے۔ یہ تمسخر کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟ بدظنی سے اس لئے فرماتا ہے۔ اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِ بدگمانیوں سے بچو۔ حدیث میں بھی آیا ہے۔ إِيَّاكُمْ وَالظَّنِّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ ۔ اس بدظنی سے بڑا بڑا نقصان پہنچتا ہے۔ میں نے ایک کتاب منگوائی۔ وہ بہت بے نظیر تھی۔ میں نے مجلس میں اس کی اکثر تعریف کی۔ کچھ دنوں بعد وہ کتاب گم ہو گئی مجھے کسی خاص پر تو خیال نہ آیا ۔ مگر یہ خیال ضرور آیا کہ کسی نے اٹھالی ۔ پھر جب کچھ عرصہ نہ ملی تو یقین ہو گیا کہ