حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 180 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 180

حقائق الفرقان ۱۸۰ سُورَة محمد گناہ اور اسرائیل کو اُس کی خطا جتاؤں۔میکہ ۳ باب ۸۔یہ تو عہد عتیق کا محاورہ سنایا۔اب عہد جدید کو سنئے۔اس نے تو حد کر دی ہےسنوسنوسنو۔مسیح نے ہمیں مول لے کر شریعت سے چھڑایا کہ وہ ہمارے بدلے میں لعنت ہوا۔نامہ گلتیاں ۳ باب ۱۳، ۲۔قرنتی ۵ باب ۲۱۔پس میں کہتا ہوں جب صاحب قوم قوم کے گناہ سے گنہ گار کہا جاتا ہے۔اور جب قوم کو صاحب قوم کے نام سے مخاطب کیا جاتا ہے۔تو آپ ان آیات میں جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گنہگار ہونا ثابت کرتے ہیں اس امر کو کیوں فروگزاشت کئے دیتے ہیں با ایں ہمہ جن آیات سے آپ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت الزام قائم کرتے ہیں۔ان میں یقینی طور پر بلحاظ عربی بول چال کے اعتراض ہو ہی نہیں سکتا۔مثلاً سوچو۔آیت وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ (محمد :۲۰) میں ہم کہتے ہیں۔وَلِلْمُؤْمِنِينَ والا واو عطف تفسیری کا واؤ ہے۔اور واؤ تفسیری خود قرآن میں موجود ہے۔دیکھو سورہ رعد۔تِلْكَ ايْتُ الْكِتَب وَالَّذِى أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ (الرعد: ٢) تِلكَ أَيتُ الْكِتَبِ وَ قُرْآنٍ مُّبِيْنِ (الحجر : ٢) فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحہ ۱۶۰-۱۶۱) ۲۳۔فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِعُوا أَرْحَامَكُمْ - ترجمہ۔تو کیا تم قریب ہو کہ اگر والی بنو تو ملک میں فساد کرو اور اپنے رشتہ داروں کا لحاظ کاٹ دو۔تفسیر۔فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ۔میں جب یہ آیت پڑھتا ہوں۔یزید یاد آ جاتا ہے۔تشخیز الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۴۸۱) لے یہ آیتیں قرآن کی ہیں اور جوا تارا گیا ہے تیرے پاس تیرے خدا سے وہ سچ ہے۔۲۔یہ آیتیں ہیں کتاب کی اور کھلے قرآن کی۔