حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 178
حقائق الفرقان ۱۷۸ سُورَة مُحَمَّدٍ نے اس کو قیدیوں کی چاروں مثالوں سے سمجھایا تھا۔ اول بیمار دانت کو باندھا جاتا ہے۔ اس کی منجنوں سے مالش کی جاتی ۔ پھر کاٹا جاتا۔ پھر اکھاڑ کر باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ یہی حال ہے قید یانِ جنگ کا ۔ پس جو قیدی دائم الجبس ہوں ان کو بیاہ سے روکنا تو جائز نہیں۔ پس مرد ہوں یا عورتیں سب کو نکاح کی اجازت ہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه ۴ ) ۱۴- وَ كَائِنُ مِنْ قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْيَتَكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْتُهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ - ترجمہ ۔ اور بہت سے گاؤں جو سخت قوت دار تھے اس تیری بستی سے جس نے تجھ کو وطن سے نکال دیا ہے ہم نے ان کو تباہ کر دیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔ تفسیر۔ اور کتنی تھیں بستیاں جو زیادہ تھیں زور میں اس تیری بستی سے جس نے تجھ کو نکالا ۔ ہم نے ان کو کھپادیا پھر کوئی نہیں اُن کا مددگار ۔ ( فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحہ ۲۶۰ حاشیه ) ١٦ - مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ فِيهَا أَنْهُرُ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ اسِ وَ اَنْهُرُ مِنْ لَبَن لَّمْ يَتَغَيَّرُ طَعْمُهُ وَأَنْهُرُ مِنْ خَيْرٍ لَذَّةٍ لِلشَّرِبِينَ ۚ وَأَنْهُرُ مِّنْ عَسَلٍ مُصَفًّى وَلَهُمْ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوا مَاءَ حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ ۔ ترجمہ ۔ اس جنت کی ایک مثال جس کا متقیوں کو وعدہ کیا گیا ہے اس میں کثرت ہے ایسے پانی کی جس میں بو نہیں اور باسی نہیں ہوتا نہریں ہیں اور کثرت سے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ نہیں بدلتا اور کثرت سے رس پینے والوں کے لئے مزے ہیں اور کثرت سے صاف خالص شہد ہیں اور ان لئے وہاں ہر قسم کے میوے میوے ہیں اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے (کمزوری سے حفاظت ) کیا یہ لوگ برابر ہو سکتے ہیں اس کے جو ہمیشہ جلتا بھتا رہے گا اور ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا کے لئے جائے گا اور وہ ان کی آنتوں کو ٹکڑے کر دے گا۔ تفسیر۔ حالت اس بہشت کی جو تقوٹی والوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اس میں نہریں ہیں۔ اس پانی