حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 177
حقائق الفرقان 162 سُورَة مُحَمَّد ہرگزا کارت نہ کرے گا ان کے اعمال۔تفسیر۔حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا۔اس جہاد کا منشاء یہ ہے کہ جنگیں موقوف ہو جا ئیں۔غلامی کی نسبت فرمایا تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۴۸۱) لے فإمَّا مَنَّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءَ حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا۔اسلام میں مخالف قیدی جب جنگ سے آتے اور اس وقت ان کا واپس کرنا مصلحت نہ ہوتا۔تو پرورش اور تربیت کے واسطے مجاہدین کے سپر دہوئے اور حکم ہوتا جو کھا نا تم کھاؤ۔ان کو دو۔جو تم پہنو۔ان کو پہناؤ۔طاقت سے زیادہ کام مت بتاؤ۔ہاں جیل خانوں اور دریائے شور کے دُکھ نہ دیئے ( فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحه ۵۳) جاتے تھے۔قید یانِ جنگ چار قسم کے ہوتے ہیں اور اب بھی چار قسم ہیں اول وہ جو شرارت کے سبب سے اس قابل ہی نہیں رہتے کہ امنِ عام کے سخت دشمن نہ ہوں۔ایسے لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے۔چنانچہ اب بھی کورٹ مارشل میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ایسے موذیوں کا زندہ رکھنا ایک ایسے دانت کی مثال ہے جس کے ضرر سے دوسرے دانتوں کو تکلیف پہونچتی ہے۔اگر نکالا نہ جاوے تو سارے دانتوں پر اس کا برا اثر پڑ کر سب کو تباہ کر دیتا ہے۔دوسرے وہ قیدی جن کے بدلے روپیہ دے کر یا دوسرے قیدیوں کو چھڑانے کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ان دونوں کا ذکر قرآن میں یوں آیا ہے۔وَاقْتُلُوهُمُ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُم ( البقرہ : ۱۹۲) ۲ - إِمَّا فِدَاء میں ہے۔سوم۔وہ جن کا مفت چھڑانا ہی قرین مصلحت ہوتا ہے۔جن کا ذکر اما فداء میں آ گیا ہے۔چہارم۔وہ جن کا واپس کرنا یا ان کا بدلہ لینا یا قتل کرنا مناسب نہیں ہوتا۔ایسے قیدی اب بھی مہذب گورنمنٹوں میں موجود ہیں اور پورٹ بلیئر وغیرہ انہیں سے آباد ہیں۔ایسے قیدیوں کی اگر شادیاں بیاہ روک دیئے جاویں تو ان کے فطری قومی پر کیسا بُرا اثر پڑتا ہے۔میرے ایک انگریزی خواں دوست نے ایسا اعتراض کیا تو میں - پس یا احسان کی یو پیچھے اس کے اور یا بدلہ لیجیئو یہاں تک کہ رکھ دیوے لڑائی بوجھ اپنے۔