حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 162
حقائق الفرقان ۱۶۲ سُورَةِ الدُّخَانِ چنانچہ میرا معمول ہے کہ جب بات گلے پڑ جائے۔ تو پھر میں اللہ سے دعا مانگتا ہوں۔ اور خدا کے فضل سے ہمیشہ کامیاب ہوتا ہوں۔ اور مجھے کوئی ایسا واقعہ یاد نہیں کہ میں نے کسی مباحثہ میں زک اٹھائی ہو۔ مامورین کی جدا بات ہے۔ انہیں تو اللہ کے حکم سے بعض وقت چیلنج کرنا پڑتا ہے۔ مگر غور سے دیکھا جائے تو ابتدا ان کی طرف سے بھی نہیں ہوتی ۔ ( تشحید الاذہان جلدے نمبر ۲۔ ماہ فروری ۱۹۱۲ ء صفحہ ۸۵،۸۴) يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُ خَانِ مبین اس آیت کے شانِ نزول میں لکھا ہے۔ مکے میں جب قحط نہایت سخت پڑا۔ ابوسفیان آپ کے پاس آئے اور کہا تو صلہ رحمی کا حکم کرتا ہے۔ اور دیکھ تیرے باعث ہم کیسے وبال میں ہیں۔ تو دعا کر ۔ آپ نے دعا کی ۔ جناب یوسف نے تو فرعونی خزانہ سے غلہ دلایا تھا۔ آپ نے البی خزانہ سے دلایا۔ ( بخاری۔ سورۃ دخان ) ( فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ اول صفحہ ۷۲) ۱۷ - يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ - ترجمہ ۔ اور جس دن ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے ہم تو بدلہ لینے والے ہیں ۔ تفسير - البطشة الكبرى - جنگ بدر ( تشهید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه تمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۸۱) ۱۸ ، ۱۹ - وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمُ - أَنْ اَدُّوا إِلَى عِبَادَ اللَّهِ إِنِّي لَكُمْ رَسُولُ آمِينَ - ترجمہ ۔ اور بے شک ہم آزما چکے ہیں ان سے پہلے فرعون کی قوم کو اور ان کے پاس معزز پیغمبر آیا تھا ۔ کہ میرے ساتھ کر دو اللہ کے بندوں کو (یعقوب کی اولاد کو ) میں تمہارے پاس بھیجا ہوا آیا ہوں ، امانت دار ہوں ۔ تفسیر اور ہر آئینہ آزمایا ہم نے ان ، ان سے پہلے فرعون کی قوم کو اور آیا ان لوگوں کو رسول بزرگ کہ حوالے کر وطرف میرے اللہ کے بندوں کو ہر آئینہ میں تم لوگوں کا امانت دار اور رسول ہوں ۔ اے جس دن لاوے آسمان دھواں صریح ۔ ( فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ اول صفحه ۱۵۰ حاشیه )