حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 142
حقائق الفرقان ۱۴۲ سُورَةُ الزُّخْرُفِ نا واقف دنیا اپنی تدبیروں سے جو انتخاب کرنا چاہتی ہے وہ منظور نہیں ہو سکتا ۔ سچا انتخاب وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔ چونکہ انسانی عقل پورے طور پر کام نہیں کرتی اور وہ فتوی نہیں دے سکتی کہ ہمارا کیا ہوا انتخاب صحیح اور مفید ثابت ہوگا یا ناقص ۔ اس لئے انتخاب ماموریت کیلئے اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مورخه ۱۷ رفروری ۱۹۰۱ ء صفحه ۵ ) به مشکلات پیش آنے کا یہ باعث ہوا کرتا ہے کہ انسانی طبائع کسی کا محکوم ہونے میں مضائقہ کیا ا کرتے ہیں۔ چنانچہ خود خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہماری حکومت کو یہ لوگ طوعاً اور کرھا مانتے ہیں ۔ پس جب خدا کی حکومت کا یہ حال ہے تو پھر جب انبیاء علیہم السلام کی حکومت ہوتی ہے اس وقت لوگوں کو اور بھی اعتراضات سوجھتے اور کہتے ہیں لَوْ لَا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ کہ وحی کا مستحق فلاں رئیس یا عالم تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ لوگ رسول کی بعثت کیلئے خود بھی کچھ صفات اور اسباب تجویز کرتے ہیں ۔ جس سے ارادہ البی بالکل لگاؤ نہیں کھاتا۔ علی ھذا القیاس۔ جب رسول کے خلیفہ کی حکومت ہو تب تو ان کو مضائقہ پر مضائقہ اور کراہت پر کراہت ہوتی ہے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۱ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۱۱) ٣٣- لَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَتِ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ - ترجمہ ۔ کیا یہ لوگ بات رہے ہیں تیرے رب کی رحمت کو ۔ ہم نے تقسیم کی اُن کے درمیان اُن کی روزی اسی دنیا کی زندگی میں ہمیں نے بلند مرتبہ بنایا ہے ایک کو ایک پرتا کہ بنائے ایک دوسرے کو محکوم ۔ تیرے رب کی رحمت تو ان چیزوں سے بہتر ہے جو یہ جمع کر رہے ہیں ۔ تفسیر۔ کیا یہ لوگ النبی فضل کی خود تقسیم کرتے ہیں حالانکہ دیکھتے ہیں کہ وجہ معاش میں ہم نے ان کو خود مختار نہیں رکھا اور خود ہم نے اس کی تقسیم کی ہے۔ پس جب ان کو علم ہے کہ خدا کے ارادہ سے سب کچھ ہوتا ہے تو پھر انبیاء اور ان کے خلفاء کا انتخاب بھی اس کے ارادہ سے ہونا چاہیے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۱ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۱۱)