حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 139
حقائق الفرقان ۱۳۹ سُوْرَةُ الزُّخْرُفِ إنَّه في أم الكتب (الزخرف:۵) کے متعلق فرمایا کہ اس پر بھی مفسرین نے بہت بحث کی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر خاص فضل کیا اور اس کے معنے سمجھائے کہ الکتب سے مراد تو رات ہے اور ام کے معنے محکمات۔تو مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کی پیشگوئی تو رات کے محکمات میں موجود ہے۔چنانچہ استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ کو پڑھنے سے معلوم ہوسکتا ہے۔فرمایا۔افَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِكرَ صَفْحًا (الزخرف : ٦) سے مَا مَنَعَنَّا أَنْ تُرسِلَ بِالْأَيْتِ إِلَّا ان كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ (بنی اسرائیل : ۵۸) کے معنے حل ہوتے ہیں۔فرمایا۔جیسے تمہارے خطا کار ہونے سے ہم اس قرآن مجید کے بھیجنے سے نہیں رک سکتے ایسے ہی نشانات بھیجنے سے ہمیں یہ بات نہیں روک سکتی کہ پہلوں نے جھٹلایا۔الفضل جلد ا نمبر ۲۶ مورخه ۱۰/ دسمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱) ١١ - الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا وَ جَعَلَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ - ترجمہ۔جس نے بنا دیا تمہارے لئے زمین کو جھولنا اور بنا دیئے تمہارے لئے اس میں راستے تا کہ تم راہ پا جاؤ۔تفسیر۔لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ۔جب ظاہری رستے بنائے تو باطنی رستے بھی ضرور ہیں۔کتاب اللہ تشخيذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۸۰) پر عمل سے خدا تک پہنچو۔۱۲ - وَالَّذِى نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَانْشَرْنَا بِهِ بَلْدَةً مِّيْتًا كَذلِكَ 179179۔تخرجون۔ترجمہ۔وہی اللہ ہے جس نے اتارا بادل سے پانی اندازے سے پھر ہم نے زندہ کر دیا اس سے ایک شہر مردہ کو۔اسی طرح نکالے جاؤ گے یعنی مرے بعد زندہ ہو کر اٹھو گے۔فرمایا۔علماء میں بحث ہے کہ جس گاؤں میں طاعون ہو اس کے باشندوں کو باہر ڈیرہ لگانا چاہیے یا نہیں۔فَانشَرْنَا بِهِ بَلْدَةً مِّيْتًا (الزخرف: ۱۲) سے یہ مسئلہ حل ہوتا ہے کیونکہ بارش اس گاؤں کی زمینوں کو تر و تازہ و شاداب کرتی ہے نہ مکانوں کو۔پس گاؤں سے نکل کر اس کی زمین میں ڈیرہ الفضل جلد نمبر ۲۶ مورخه ۱۰/ دسمبر ۱۹۱۳ صفحه ۱) لگانا منع نہیں۔