حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 117 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 117

حقائق الفرقان 112 سُورَة حم السجدة ششم۔اس لئے کہ ان چیزوں کے بنانے میں یہ نہیں فرمایا کہ تمام تمام دن اور رات میں ان اشیاء کو پیدا کیا۔بلکہ یہ فرمایا ہے کہ چھ روز میں یہ چھ چیزیں پیدا کیں۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک ایک چیز ایک ایک روز میں۔ایک آن کے اندر کلمہ کُن سے پیدا ہوئی۔ہفتم۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ خَالِقُ الْأَرْضِ وَ السَّبُوت۔معطل بریکار نہیں۔وہ ہمیشہ اپنی کاملہ صفات سے موصوف ہے۔ایسا کیوں مانا جاوے کہ تمام اشیاء کو ایک آن میں پیدا کر کے پھر معطل ہو گیا؟ بلکہ وہ ہمیشہ خالق ہے۔اور مخلوق کا حافظ ہے اور رہے گا۔ہشتم۔اس لئے کہ یوم عربی زبان میں مطلق وقت کو کہتے ہیں پس سِتَّةِ أَيَّامٍ کے یہ معنے ہوں گے۔چھ وقت میں۔چاہو وہ وقت ایک آن كَلَمْحِ الْبَصَر لو۔چاہوتو وہ ایک ایک یوم لاکھوں کروڑوں برس کا یوم جیسے راقم کا اعتقاد ہے۔سمجھو۔نہم۔اس لئے کہ یوم عربی زبان میں اس زمانہ اور وقت کو بھی کہتے ہیں جس میں کوئی واقعہ گزرا۔گوہ واقعہ کتنے بڑے وقت میں گزرا ہو۔دیکھو۔یوم بعاث ، يوم حنین ، یوم بنو بکر ، يوم بسوس ، یوم عاد وغیرہ وغیرہ۔اس زمین و آسمان وغیرہ کی پیدائش کے زمانہ کو اس محاورہ پر یوم کہا گیا۔دہم۔اس لئے کہ پدارتھ وڈیا یعنی علم طبعیات۔خصوصاً علم طبقات الارض سے ثابت ہو چکا ہے یہ زمین کسی زمانہ میں آتشیں گیاس تھا بلکہ یوں کہیے کہ ایک ستارہ روشن تھا۔جب قدرتی اسباب سے اللہ تعالیٰ نے اس میں کسی قدر کثافت پیدا کر دی تو یہ زمین اس وقت ایک سیال مادہ ہو گیا۔جسے عربی زبان میں الماء کہتے ہیں۔اور اس پر اس وقت ہوا چلا کرتی تھی۔جیسے تو ریت شریف کی کتاب بقیہ حاشیہ۔یہی تو عالموں کا پروردگار ہے۔پھر اس پر پہاڑ بنائے۔اور زمین کو برکت دی اور اشیائے خوردنی کے اس میں انداز باند ھے۔یہ سب کچھ چار دن میں ہوا۔حاجت مندروں کے لئے سب سامان درست ہو گیا۔پھر سماء کی جانب متوجہ ہوا اور وہ دخان تھا (یعنی اُسے ٹھیک کیا ) پھر اسے اور زمین دونوں کو کہا کہ خواستہ یا نخواستہ تم دونوں حاضر ہو جاؤ۔انہوں نے کہا۔ہم خوشی سے آتے ہیں۔( یہ ایک انداز محاورہ ہے جس کا مدعا یہ ہے کہ یہ اشیاء ہمارے مطیع فرمان ہیں اور کبھی کسی طرح ہمارے حکم سے انحراف نہیں کر سکتیں) پھر ان کو سات سماء پر مقرر کیا دو دن میں۔اور ہر سماء کو اس کا متعلق کام سپر دکیا۔