حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 101
حقائق الفرقان 1+1 سُوْرَةُ الْمُؤْمِنِ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا۔اس میں عذاب قبر کا ثبوت ہے۔وو تشخیز الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه تمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۷۹) اور ۵۲ - إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ ترجمہ۔بے شک ہم مدد کرتے ہیں اپنے بھیجے ہوؤں کی اور ایمانداروں کی دنیا ہی کی زندگی میں اور اس دن جس دن لوگ کھڑے ہوں گے۔تفسیر۔ہم اپنے مرسلوں اور کامل مومنوں کو جو ہمارے کہے پر چلتے اور ہمیں مانتے ہیں نصرت و امدا دو تائید دیتے رہے اور دیتے رہیں گے۔اس دنیا میں اور قیامت کے دن۔اب تمام ماموروں مرسلوں اور ان کے بچے ساتھ والوں کی تاریخ دیکھ ڈالو۔کس طرح بے کس و بے بس، بے یارو غمگسارد نیا میں آتے ہیں۔مثلا یوسف علیہ السلام کو دیکھوز بر دست طاقت اور جماعت نے ان کے ساتھ کیا کیا۔مگر آخر یوسف علیہ السلام کامیاب اور وہ سب کے سب باہمہ عصبیت ناکام و نادم ہوئے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کیسے زبر دست تھے۔پھر کیسے نامراد ہلاک ہوئے۔تائید و نصرت مرسل کے بارے دو خبریں ہیں۔ایک دنیا میں تائید و نصرت کی۔دوسری بعد الموت کی۔ان دو میں سے ایک واقعہ نے دنیا میں اپنی خبر کے مطابق ظہور کیا۔پس اسی مناسبت سے دوسری خبر جو اسی کے ساتھ ہے۔اپنے واقعہ کے ساتھ ضرور ظہور پذیر ہوگی۔فرعون وموسیٰ“ کے مابین جنگ ہو رہی ہے۔ایک طرف ایک طاقت ور بادشاہ ہے جو مد مقابل کو کہتا ہے۔تو ہمارا نمک پروردہ اور تیری تمام قوم ہماری غلام ہے۔ان دونوں کے درمیان البی نصرت کا وعدہ ہوتا ہے کہ موسیٰ ان کی تمام شرارتوں سے محفوظ رہیں گے اور فرعونی بالکل غرق ہو کر عذاب آخرت کے مستحق ہوں گے۔فَوَقْهُ اللهُ سَيَاتِ مَا مَكَرُوا وَ حَاقَ بِالِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا (المومن :۴۷٬۴۲) پھر دیکھ لوان تینوں علوم نے کیسی زبردست قوت سے قیامت کو لے تو اللہ نے بچالیا اُن کی بُری تجویز سے اور الٹ پڑا فرعون کے لوگوں پر بُرا عذاب۔وہ آگ ہے کہ اس پر حاضر کئے جاتے ہیں۔