حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 102 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 102

حقائق الفرقان ۱۰۲ سُوْرَةُ الْمُؤْمِنِ ثابت و محکم کر دیا ہے۔( نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۴۲۔۴۳) ساری خلقت جو میری نگاہ سے بذریعہ علم ، کتاب، سماع ، مشاہدہ گزری ہے وہ یہی چاہتی ہے کہ میں جیت جاؤں اور مجھے نصرت ملے۔لوگ اپنے ننگ و ناموس کے قیام کیلئے جانوں تک بے دریغ شار کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس فطرت کے تقاضا پر فرماتا ہے۔اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا - اسی ورلی زندگی میں رسولوں اور مومنوں کی نصرت کریں گے۔تاریخ اس وعدہ کے ایفا اور اس نشان کے صداقت کی شہادت دیتی ہے۔حضرت نوح علیہ السلام کا ہی معاملہ دیکھو کہ آخر کار آپ ہی سلامت و مامون رہے۔دوو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقابلہ میں مجوس تھے۔مگر اس سب سے بڑے مخالف نمرود کا کچھ نشان نہیں۔مؤرخین اس کے بارہ میں بحث کرتے ہیں کہ آیا وہ تھا بھی یا نہیں۔تھا تو کون؟ اسی طرح حضرت موسیٰ حضرت مسیح کے دشمنوں کا حال ہوا۔پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام رہ گیا اور کس عزت سے لیا جاتا ہے۔امام حسین رضی اللہ عنہ کی اولا د تو ہر جگہ پائی جاتی ہے۔مگر یزید کی نسل میں سے ہونا تو در کنار اس کا ہم نام بھی کوئی کہلانا نہیں چاہتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۶ مورخه ۸ /دسمبر ۱۹۱۰ صفحه ۲۱۹) کس قدر خوشی اور امید کا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید اسی دنیا میں بھی ملتی ہے اور اس دنیا میں نصرت اور تائید الہی کا ملنا آخرت کی نصرت پر ایک قوی دلیل ہے۔اور پھر یہ بھی کہ یہ نصرت اور تائید ہر مومن مخلص کو ملتی ہے۔اگر صرف انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہی مخصوص ہوتی تو البتہ عام مومنوں کیلئے کس قدر دل شکن بات ہو سکتی تھی۔مگر خدا کا کس قدر احسان ہے کہ فرما دیا ہے إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا اللہ تعالیٰ کے مامور اور مرسل اور مومن اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی تائیدات سے حصہ لیتے ہیں اور یہ نصرت عجیب عجیب طور پر اپنا ظہور کرتی ہے کیونکہ اس نصرت سے اللہ کی ہستی کا ثبوت ، مامور من اللہ کی صداقت اور اللہ کے دوسرے وعدوں کی تصدیق کی ایک