حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 88
حقائق الفرقان ۸۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة پر اور پیچھے آنے والی پر یقین کرتے ہیں اور اس صورت میں اُن کا ر ڈ ہو گا جو کہ نبوت کے اور وحی کے منکر ہیں جیسے کہ برہمو لوگ ہیں کہ نبوت کے صریح منکر ہیں اور عبداللہ بن عباس اور عبد اللہ بن مسعود اور بہت سے اور صحابہ نے فرمایا ہے کہ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ الخ سے مراد وہ مومن ہیں جو کہ عربوں میں سے ہوئے ہیں اور وَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ الخ سے مراد اہلِ کتاب کے مومن ہیں اور مجاہد تابعی نے کہا ہے کہ ان دونوں سے عام مومن مراد ہیں اور تفسیر ابن کثیر میں اسی کو پسند کیا گیا ہے اور الَّذین کا مکرر لانا اور پہلے هُدًى لِلْمُتَّقِينَ اور دوسرے میں علی ھندی کہنا اور پھر دوباره اولیک لانا اور نئی خبر کا لانا صحابہ کے قول کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ ان سب باتوں سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ دو متفائر عبارتوں سے متغائر لوگ مراد ہیں لیکن سورۃ بقرہ کے آخر میں جو یہ آیا ہے کہ كُلٌّ آمَنَ بِاللهِ وَ مَلكَتِهِ (البقرة : ۲۸۲) تو یہ مجاہد کے قول کی تائید کرتا ہے کیونکہ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سب کا مومن بہ یکساں ہے اور آخرۃ چونکہ قرآن مجید میں بعض مقام پر داریا یوم ملا کر لایا گیا ہے جیسا کہ آتا ہے وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرُ (یوسف:۱۱۰) ( اور ضرور پیچھے آنے والی حیاتی کی حویلی بہتر ہے ) اور اليوم الأخر ( پیچھے آنے والا دن ) اور دار آخرت اور یوم آخر سے مراد حشر کا وقت ہے لہذا مفسروں نے یہاں پر اکیلے اَلْآخِرَةِ سے بھی حشر کا وقت اور قیامت ہی مرا درکھا ہے لیکن ما قبل پر یعنی مَا اُنْزِلَ إِلَيْكَ اور مَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ (البقرة: ۵) پر نظر کرنے سے حضرت خاتم النبیین کی دوسری بعثت ثابت ہوتی ہے جس کا کہ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الأمينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَ إِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِينٍ وَأَخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - (الجمعة: ٣، ٤) اللہ وہ ہے کہ جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول بھیجا ہے جو کہ ان سے ہے کہ ان پر اللہ کی آیتیں پڑھتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اگر چہ اس سے پہلے کھلی کھلی گمراہی میں تھے اور ان آخرین میں بھی اس رسول کو بھیجے گا جو اب تک ان پہلوں کے ساتھ نہیں ملے ) میں ذکر آیا ہے کیونکہ یہاں سے صاف صاف ثابت ہے کہ آنحضرت ایک دفعہ تو اُمّی لوگوں میں مبعوث b