حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 89
حقائق الفرقان ۸۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ہوئے یعنی بھیجے گئے اور ایک دفعہ ان پیچھے آنے والوں میں بھی مبعوث ہوں گے جو کہ ان پہلوں کے ساتھ نہیں ملے۔پس ماقبل پر نظر کرنے سے وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ (البقرۃ:۵) کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ لوگ پیچھے آنے والی بعثت نبی کریم پر یقین کرتے ہیں۔یہ تو اس صورت میں ہوں گے جب ما قبل میں یعنی مَا اُنْزِلَ میں مامصدر یہ لیا جائے یعنی دوسرے ترجمہ کے لحاظ سے یہاں پر بھی بعثت مراد ہوگی جیسی کہ ما انزل سے بعثت مراد ہے اور اگر ما موصولہ بمعنی جو بنایا جاوے یعنی پہلا ترجمہ لیا جائے تو اس سے وحی مراد ہے جو کہ پیچھے آنے والی ہے جیسے کہ مَا اُنْزِلَ سے وحی مراد ہے پس پہلے ترجمہ کے لحاظ سے وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ (البقرة : ۵) کے یہ معنے ہوں گے اور وہ لوگ پیچھے آنے والی وحی پر یقین لاتے ہیں۔(رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۵۔نومبر ۱۹۰۶، صفحه ۱۹۲ تا ۱۹۴) متقی کی چوتھی علامت وَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ (البقرة: ۵) اور وہ لوگ جو اِس ( کلام الہبی اور تمام اس وحی کے ساتھ ) ایمان لاتے ہیں جو تیری طرف نازل ہوا ( اور یہ امر ان پر واضح ہونے سے کہ خدا کی صفت تکلم ہمیشہ سے ہے ) تجھ سے پہلے جو ( کلام الہبی ) نازل ہوئی اس کو بھی مانتے ہیں ( اور اس صفت تکلم کو صرف تجھ تک بھی محدود نہیں کرتے) اور پیچھے آنے والی ( کلام الہی ) پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ بتلاتا ہے کہ متقی کی صفت ایک یہ بھی ہے کہ مکالمہ الہی پر اس کا ایمان ہوتا ہے اور وہ خدا کو کسی زمانہ ماضی، حال اور مستقبل میں گونگا نہیں مانتا۔خدا تعالیٰ کے اس صفت تکلم کا ذکر ایمان، اقام الصلوۃ اور انفاق رزق کے بعد اس لئے ضروری ہے کہ ان اعمال کا یہ تقاضا عملی طور پر ایک متقی کے واسطے ہونا چاہیے کہ آیا اس کی محنت خداشناسی کا کوئی راستہ اس کے واسطے صاف کر رہی ہے کہ نہیں ؟ اور جس راہ پر میں نے قدم مارا ہے کیا اس پر دوسرے بھی قدم مار کر تسلی یافتہ ہوئے ہیں کہ نہیں ؟ تو اس کو یہ نظیر زمانہ ماضی، حال میں ملتی ہے جس سے آئندہ کے لئے اُسے یقینی حالت پیدا ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کی صفت تکلم کے بارے میں انسانوں کے تین گروہ ہیں (۱) وہ تو سرے سے