حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 82
حقائق الفرقان اور یہ آیت۔۸۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ و انا اوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام : ۱۶۳، ۱۶۴) اس آیت کا افتتاح میں پڑھنا خوب آشکار کرتا ہے کہ اہلِ اسلام کا باطنی رخ اور قلبی تو جہ کدھر ہے۔کعبہ حقیقی اور قبلہ تحقیقی انہوں نے کس چیز کوٹھہرا رکھا ہے؟ ایک انگریز مؤرخ لکھتا ہے کہ " فضائل اسلام میں سے ایک یہ بھی فضیلت ہے کہ اسلام کے معابد ہاتھ سے نہیں بنائے جاتے اور خدا کی خدائی میں ہر مقام پر اس کی عبادت ہو سکتی ہے۔اَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ الله (البقرة: ۱۱۲) جس مقام پر خدا کی عبادت کی جاوے وہی مقام مقدس ہے اور اُسی کو مسجد سمجھ لیجئے۔مسلمان چاہے سفر میں ہو چاہے حضر میں، جب نماز کا وقت آتا ہے چند مختصر اور پر جوش فقرات میں اپنے خالق سے اپنے دل کا عرض حال کر لیتا ہے۔اس کی نماز اتنی طولانی نہیں ہوتی کہ اس کا جی گھبرا جائے اور نماز میں جو کچھ وہ پڑھتا ہے اُس کا مضمون یہ ہوتا ہے کہ اپنے عجز و خاکساری کا اظہار اور خداوند عالم کی عظمت اور جلال کا اقرار اور اُس کے فضل ورحمت پر توکل۔عیسائی کیا جانیں کہ اسلام میں عبادت خدا کا مزا کیسا کوٹ کوٹ کے بھرا ہے " !! فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم - صفحه ۲۷۵ تا ۲۸۸) نماز میں ایک خاص قسم کا فیضان اور انوار نازل ہوتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا برگزیدہ بندہ ان میں ہوتا ہے اور ہر ایک شخص اپنے ظرف اور استعداد کے موافق ان سے حصہ لیتا ہے پھر امام کے ساتھ تعلق بڑھتا ہے اور بیعت کے ذریعہ دوسرے بھائیوں کے ساتھ تعلقات کا سلسلہ وسیع ہوتا ہے۔ہزاروں کمزوریاں دُور ہوتی ہیں جن کو غیر معمولی طور پر دُور ہوتے ہوئے محسوس کر لیتا اے میری نماز اور قربانی اور میرا جینا اور مرنا اللہ کی طرف ہے کوئی نہیں اس کا شریک اور یہی مجھ کو حکم ہوا اور میں سب سے پہلے حکم بردار ہوں۔۱۲ جس طرف تم منہ کرو وہاں ہی متوجہ ہے اللہ۔۱۲ تنقید الکلام ترجمه لائف آف محمد از سید امیر علی۔۱۲