حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 83
حقائق الفرقان ۸۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ہے اور پھر اُن کمزوریوں کی بجائے خوبیاں آتی ہیں جو آہستہ آہستہ نشو ونما پا کر اخلاق فاضلہ کا ایک خوبصورت باغ بن جاتے ہیں۔الحکم جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۴ء صفحه ۸) وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ مِنْ کے معنے یہاں پر ہیں بعض اور کچھ کے۔اور ما کے ہیں جو یا شئے کے یا اس کے۔۔۔۔اور رَزَقْنَا رزق سے بنایا ہو ا لفظ ہے اور رزق کہتے ہیں اس چیز کو جس سے نفع اُٹھا سکتے ہوں اور کبھی بمعنے نصیب اور حصہ کے آتا ہے اور کبھی بمعنے مرزوق یعنی جو چیز رزق کے طور پر دی جاتی ہے اور گا ہے اس کے معنے شکر اور ملک کے ہوتے ہیں۔دوم اور سوم معنوں کی مثال قرآن مجید میں بھی آئی ہے جیسا کہ فرمایا ہے۔وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُم أَنَّكُمُ تكذِبُونَ (الواقعه: ۸۳) ( اور اپنا نصیبہ اور حصہ یہ بناتے ہو کہ تکذیب کرتے ہو ) اور فرمایا۔اَرعَيْتُم مَّا اَنْزَلَ اللهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَ حَللًا ( يونس :٢٠) ( تم بتاؤ تو سہی کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لئے اُتارا ہے پس تم نے خود ہی اس میں سے کچھ تو حرام قرار دیا اور کچھ حلال بنا دیا ) اور فرمایا وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا (هود:۷) (اور جو کوئی زمین پر چلنے والی چیز ہے ان سب کا رزق اللہ ہی پر ہے ) ھم کے معنے ہیں ان کو۔(رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۵ - نومبر ۱۹۰۶ صفحه ۱۸۸) تیسری صفت متقی کی اس مقام پر یہ بیان کی کہ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ جو کچھ رزق ہم نے ان کو دیا اس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔متقی کی چونکہ ابتدائی منازل میں نظر بہت وسیع نہیں ہوتی اور خدا شناسی کے مکتب میں ابھی اس کے داخلہ کا ہی ذکر ہے اس لئے فرمایا کہ جو کچھ رزق ہم نے ان کو دیا ہے وہ اس میں سے کچھ ہماری راہ میں دیتا ہے۔اصل میں حق تو یہ تھا کہ سب کا سب ہی دے دیتا کیونکہ جس کا دیا ہے اُسی کو دیتا ہے مگر ابتدائی حالت میں جو بخل بتقاضائے نفس دخیل کا ر ہوتا ہے وہ ایسا کرنے سے روکتا ہے۔یہ نکتہ ایک دفعہ حضرت اقدس نے بیان فرمایا تھا۔یہاں رزق سے مراد خوردنی اشیاء ہی نہیں ہیں بلکہ ہر ایک ا۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام (ناشر)