حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 73
حقائق الفرقان ۷۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة عملاً تو ثابت کر رہے ہیں پس اب اصل وجود ارکان پر زیادہ قلم فرسائی کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ہاں شاید مقابلہ بین الصور تین منظور ہو تو خدا پرست قلب کی اعانت سے غور کریں کہ اسلامی طریق میں کیسا جلال ، کمال تمکین اور وقار پایا جاتا ہے۔اس بے رنگ، بے چوں ، واحد ، احد، لم یلد، لم ٹیولد کے حضور اقدس میں بے رنگ، بے تصویر مکان میں باوقار ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونا، اللہ اکبر سے افتتاح کرنا اور سورۂ فاتحہ جیسی پر معنی دعا کا پڑھنا اور پھر فرطِ انکسار سے اللہ اکبر کی عظمت کا تصور کر کے پشت مستقیم کو جھکا کر سُبحان ربی العظیم پڑھنا اور پھر زمین پر منہ رکھ کر بال گرا کر سُبحان ربی الاعلیٰ کہنا کیا یہ کم اثر کرنے والے اعمال ہیں۔کیا یہ فطرتِ انسانی کے موافق نہیں ہیں؟ میں نہیں سمجھتا کہ ایک ایسے شخص کو جو عبادت حق کو کسی صورت میں کیوں نہ ہو انسان کی عبودیت کا لازمی فرض جانتا ہے اسلامی صورت نماز سے انکار ہو۔یہاں ایک اور لطیف بات سوچنے کے قابل ہے کہ اسلامی احکام دو قسم کے ہیں احکامِ اصلی اور تابع یا محافظ اصلی۔مقصود بالذات احکام اصلی ہوتے ہیں اور احکام محافظ صرف احکام اصلی کی بقا اور حفاظت کے لئے وضع ہوئے ہیں۔نماز کے سب ارکان ظاہری احکام محافظ ہیں اور اس امر کا ثبوت اس وقت بخوبی ہوتا ہے جب یہ ارکان عذر کی حالت میں انسان کے ذمے سے ساقط ہو جاتے ہیں مثلاً نماز میں بحالت مرض على اختلاف الأحوال قومه، قعدہ، جلسہ وغیرہ سب معاف ہو جاتے ہیں مگر وہ اصلی حکم اور حقیقی فرض جو مقصود بالذات ہے یعنی قلبی خشوع و خضوع جب تک قالب عصری میں سانس کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے کبھی بھی انسان کے ذمّے سے نہیں ملتی۔یہی اور صرف یہی نماز ہے جسے اسلام نے لائق اعتبار اور مستحق ثواب کہا ہے۔سنو! وَاذْكُرُ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُةِ وَالْأَصَالِ وَ لا تَكُن مِّنَ الْغُفِلِينَ - (الاعراف : ٢٠٦) لے اور یاد کرتا رہ اپنے رب کو دل میں گڑ گڑانے اور ڈرنے اور پکارنے سے کم آواز بولنے میں صبح اور شام کے وقتوں اور مت رہ بے خبر۔۱۲۔