حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 66
حقائق الفرقان ۶۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة حرکات وسکنات کی تاثیر قلب پر ضرور پہنچتی ہے۔باری تعالیٰ ہی کے دست قدرت میں محبوس رہنے کا ثبوت اور اس کی بارگاہ میں بکمال ادب حاضر ہونے کا بیان اگر ہمارے اعضاء کر سکتے ہیں تو نماز کا قیام اور نماز میں ہاتھ باندھنا بے شک عمدہ نشان ہیں۔دلی عجز وانکسار، غایت درجے کا تذلل اگر کوئی ظاہری نشان رکھتا ہے تو حالت رکوع وسجدہ ہر گز کم نہیں۔اسلامی نماز میں جو کلمات ہیں ان میں صرف باری تعالیٰ کا معبود ہونا اور اس کی رحمتِ عامہ اور خاصہ اور سزا اور جزا کا بیان ہے پھر اسی مالک کی عبودیت کا اقرار اور اسی کی امداد کا اعتراف ہے پھر نمازی اپنے اور تمام لوگوں کے لئے راہ راست پر چلنے کی دعا مانگتا ہے اور بارگاہ حق میں عرض کرتا ہے مجھے ایسے لوگوں کی راہ دکھا جن پر تیرا فضل ہے اور اُن بڑوں کی راہ سے بچا جن پر الہی تیرا غضب ہے یا جو لوگ راہ سے بہک گئے۔پھر کچھ الہی تعریف کے الفاظ ہیں پھر تمام نیک لوگوں کے لئے دعا ہے پھر واعظ تو حید ابراہیم راست باز پر ( جو تمام بنی اسرائیل اور بنی اسمعیل کے مورث اعلیٰ ہیں اور جن کی اولاد میں محمد صاحب بھی ہیں ) اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعا ہے کیونکہ ان کے مساعی جمیلہ سے شرک کا بڑا استیصال ہوا اور توحید نے عروج پایا۔پھر اپنے لئے دعا ہے۔انسان کا خاصہ ہے اس کے دل پر کسی واعظ کی نصیحت کا اثر ایک ہی بار کچھ نہیں پڑتا۔انسان کے دل کا زنگ جو اسے محسوسات میں لگائے رکھنے سے پیدا ہو جاتا ہے ایک دفعہ کے تذکار سے دُور نہیں ہوتا۔قانونِ قدرت میں محسوسات میں زنگ زدہ اشیاء ایک دفعہ کے مصقلہ پھیرنے سے روشن اور چمک دار نہیں ہوتیں۔سورۃ فاتحہ بھی بڑی بڑی روحانی بیماریوں کے زنگ کا مصقلہ تھی اسی واسطے ایک نماز میں کئی بار پڑھی جاتی ہے۔بتاؤ کون قوم ہے جو مناروں پر چڑھ کر بلند آواز سے کمال دلیری اور جوش سے اپنے معبود اور نہایت ہی بڑائی والے خدا کی عظمت اور اس کے معبود ہونے کی شہادت دے اور اپنے محسن ہادی کی رسالت پر شہادت دے۔پانچ وقت مکر رالفاظ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بڑی بلند آواز سے