حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 62
حقائق الفرقان ۶۲ سُورَةُ الْبَقَرَة سوا اور کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور صلوٰۃ کو قائم کریں اور زکوۃ دیں اور رمضان کے روزے رکھیں اور خانہ کعبہ کا حج کریں اور ان پر عمل کریں اور پانچ اشیاء کا حکم دیا ہے انہوں نے کہ ہم ان پر ایمان لائیں۔اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور کتابوں پر اور رسولوں پر اور بعد الموت اُٹھائے جانے پر۔اور پانچ چیزوں کو ہم نے جاہلیت اور اسلام میں اپنا خُلق بنایا ہے اور وہ یہ ہیں کہ مصیبت کے وقت صبر کرنا اور آرام و آسائش کے وقت شکر کرنا اور قضاء وقدر کی رفتار پر راضی رہنا۔اور دشمنوں کی ملاقات کے مقاموں پر صدق دکھانا اور دشمنوں پر شماتت نہ کرنا اور اس سے زیادہ آنحضرت نے اُن کو یہ فرمایا کہ وہ جمع نہ کرو جو تم نہ کھاؤ اور نہ وہ بناؤ کہ جن میں نہ رہو اور نہ ان اشیاء کی رغبت یا ان میں ترقی کرو کہ جن کو تم چھوڑ جانے والے ہو۔اور اس اللہ تعالیٰ سے ڈرو کہ جس کے طرف تمہارا رجوع ہو گا اور جس پر تم پیش کئے جاؤ گے اور اس کی خواہش کرو کہ جس کی طرف تم جانے والے ہو اور جس میں تم رہو گے اور یہ ایمان کبیر میں مذکور ہیں۔رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۴۔اکتوبر ۱۹۰۶ ء صفحہ ۱۳۹ تا ۱۴۴) ایمان لاتے ہیں اس حالت میں کہ وہ لوگوں سے غائب ہوتے ہیں جیسا فرمایا ہے وَخَشِيَ الرّحمن بِالْغَيْبِ (يس:۱۲) جو ڈرا الرحمن سے غائب ہونے کی حالت میں۔اور فرمایا۔يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ (الانبیاء : (۵۱) ڈرتے ہیں اپنے رب سے پوشیدہ ہونے کی حالت میں۔پس اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السّلام کا قول قرآن مجید میں منقول ہے کہ لِيَعْلَمَ أَنِّی لَم اَخْنُهُ بِالْغَيْبِ (يوسف:۵۳) تا کہ وہ جان لے کہ غائبانہ حالت میں میں نے اس کی خیانت نہیں کی۔تو ان معنوں کے رُو سے مطلب یہ ہوگا کہ متقی لوگ ان لوگوں کی مانند نہیں ہوتے کہ جن کے حق میں آیا ہے۔اِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلى شَيْطِيْنِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ (البقرة : ۱۵) جب مومنوں کو ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کو اکیلے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ہی ساتھ ہیں بلکہ جیسے وہ لوگوں کے سامنے ایمان لاتے ہیں ان اشیاء ( اللہ اور نبوت، رسالت، کتاب اللہ کے منجانب اللہ ہونے اور قیامت وغیرھا) پر جو کہ لا