حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 56 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 56

حقائق الفرقان ۵۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ایمان داری کی یہ نشانی ہے کہ عالم تنہائی میں جب اس کے پاس کوئی نہیں ہوتا نہ کوئی رشتہ دار، نہ برادری، نہ قوم، نہ شاہی چوکیدار وغیرہ تو اس وقت جن جرائم کو وہ کر سکتا ہے ان کو اس لئے نہیں کرتا کہ خدا کی ہستی پر اُسے یقین ہے اور وہ جانتا ہے کہ اگر کوئی اور نہیں دیکھتا تو خدا کی ذات پاک دیکھ رہی ہے۔ایسے عالم تنہائی میں گناہوں سے بچنا در اصل ایمان کا ثبوت ہے اور اس کا پتہ ماہِ رمضان میں بھی خوب ملتا ہے جبکہ ایک شخص اپنے گھر کے اندر کوٹھڑی میں بیٹھا ہے پینے کے لئے سرد پانی، کھانے کے لئے نعمتیں اور شہوانی ضرورتوں کے لئے بیوی موجود ہے۔کوئی اُسے دیکھنے والا نہیں دل بھی للچاتا ہے مگر پھر خدا تعالیٰ کے خوف سے وہ پر ہیز کرتا ہے۔اکثر لوگ جب اپنے محلہ یا شہر کو چھوڑ کر دوسرے ممالک میں چلے جاتے ہیں تو شرارتوں اور بدکاریوں میں دلیر ہو جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اپنے مقام پر ان کو برادری اور قوم وغیرہ کا ڈر ہوتا ہے جب وہ نہ ہوئے تو پھر معلم کھلا وہ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔اگر ان کا ایمان اللہ تعالیٰ کی مقتدر ہستی پر ہوتا تو وہ جہاں رہتے گناہ سے بچتے۔یہ ایک لطیف حقیقت يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ سے معلوم ہوتی ہے۔وہ تقولی جو کہ ہر ایک کامیابی اور فلاح کی جڑ ہے اس کا ابتداء کیوں يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ سے شروع ہوتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ایک کامیابی خواہ دنیا کی ہو خواہ دین کی ، اس کا اصل اصول ایمان بالغیب ہی ہے اور اسی کے ذریعے سے انجام کار بڑے بڑے علوم اور بار یک در بار یک اسرار کا پتہ لگتا ہے۔مثال کے طور پر دیکھو کہ اگر ایک لڑکا ابتدائی قاعدہ شروع کرتے وقت اگر الف کو الف نہ مانے اور استاد سے کہے کہ تم اسے الف کیوں کہتے ہو؟ کچھ اور نام لوتو کیا وہ کچھ ترقی کر سکتا ہے۔ہرگز نہیں۔بہر حال اُسے ماننا پڑے گا کہ جو کچھ استاد کہتا ہے وہ ٹھیک ہے تو ہی ترقی کرے گا۔پھر جس قدر علوم ریاضی ، اقلیدس، الجبرا اور جغرافیہ طبعی وغیرہ ہیں ان میں جب تک اوّل اول کچھ باتیں فرضی طور پر نہ مان لی جاویں تو آگے انسان چل ہی نہیں سکتا۔ابتدا میں جب وہ کچھ مان کر آگے چلتا ہے تو پھر بڑے بڑے علوم وفنونِ حقہ کا دروازہ اس پر گھل جاتا ہے۔محکمہ پولیس جب کسی مقدمہ کا سراغ لگاتا ہے تو وہ بعض اوقات شریر لوگوں کی بات پر بھی اعتبار