حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 55
حقائق الفرقان ۵۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اللہ سے تقومی کرو اور اللہ تم کو تعلیم دے گا ) متقی کو جنت ملتی ہے اور جو چاہے گا وہی اس کو دیا جائے گا۔فرمایا۔وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ - جَنْتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهرُ لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَاءُونَ كَذلِكَ يَجْزِى اللهُ الْمُتَّقِينَ (النحل: ۳۲،۳۱) (متقیوں کا گھر کیا ہی عمدہ ہے! اور وہ عدن کے جنت ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے۔ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان کے لئے ان میں وہ سب کچھ مہیا ہوگا جو کہ وہ چاہیں گے۔اللہ اسی طرح متقیوں کو جزا دے گا ) رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۳ ستمبر ۱۹۰۶، صفحہ ۱۱۷ تا۱۱۹) ۴ - الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ۔ترجمہ۔جو لوگ اللہ کو مانتے ہیں بے دیکھے یا تنہائی میں اور ٹھیک نماز پڑھا کرتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے کچھ دیا کرتے ہیں۔تفسیر۔الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ متقی کون لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔غیب الغیب تو اللہ کی ذات ہے پھر مابعد الموت کے حالات۔پھر ملائکہ، رسول اور اس کی کتابیں اسی میں شامل ہیں۔رسول بحیثیت انسان ہونے کے تو غیب نہیں مگر بحیثیت رسول ہونے کے اس کی ذات غیب میں داخل ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ فروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۳) يُؤْمِنُونَ ایمان لاتے ہیں۔ایمان کہتے ہیں ماننے کو۔اس طرح سے ماننا کہ جو دل کی بات ہے وہ دل سے مانی جاوے۔جو ہاتھ سے ماننے کی ہے وہ ہاتھ سے مانی جاوے۔غرض اس طرح زبان ، آنکھ، کان اور ہر ایک اعضاء سے جو بات حسب فرمودہ الہی ماننے کی ہے وہ مانی جاوے۔اعضاء سے اس طرح مانا کرتے ہیں کہ اس بات یا امر کو عملا کر کے دکھلا دیا جاوے۔الْغَيْب۔اس سے مراد اللہ تعالیٰ بھی ہے کیونکہ وہ ایک نہاں در نہاں ہستی ہے جو اِن آنکھوں سے نہیں دیکھی جاتی اِن ہاتھوں سے نہیں ٹولی جاتی۔ان کانوں سے اس کی آواز نہیں سنی جاتی۔یہ اس کی صفت ہے منجملہ اور صفات کے۔اس کے معنے تنہائی کے بھی ہیں جیسے فرمایا۔يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ (الملك: ۱۳) یعنی لے جو لوگ تنہائی میں یا بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔( ناشر )