حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 621
حقائق الفرقان ۶۲۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة يَبْحَقُ الله الربوا۔سود کو مٹاتا ہے اللہ۔کیونکہ اس کو منع کر دیا۔وَيُربى الصداقتِ۔اور صدقات کو بڑھاتا ہے اس طرح کہ ان کے دینے کا حکم دیا۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۰ مورخه ۲۰ مئی ۱۹۰۹ء صفحه ۵۱) جیسا کہ قرآن شریف اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات طیبات اور تعامل اسلام سے پایا جاتا ہے ہر قسم کے سود کو حرام بتاتے ہیں اور کسی صورت میں اس کے جواز کے قائل نہیں اور ہوں بھی کس طرح جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَمْحَقُ الله الربوا (البقرة: ۲۷۷) اللہ تعالیٰ نے ربا کے محق کرنے کا ارادہ کیا ہے اور دوسری جگہ فرما یا الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرَّبُوا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطنُ مِنَ الْمَشِش (البقرة :۲۷۶) یعنی وہ لوگ جو سود لیتے ہیں نہیں اٹھیں گے قیامت کے دن مگر اس طرح جیسے شیطان نے مس کر کے انہیں دیوانہ بنادیا ہو۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَعَنَ رَسُولُ اللهِ الكِلَ الرِّبَا وَمُوْ كِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ(مسلم کتاب المساقاة باب لعن أكل الربا و مؤکله) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے کھلانے والے اور اس کے گواہوں اور وثیقہ لکھنے والوں پر لعنت کی ہے۔اس سے بڑھ کر اور تہدید کیا ہو اللہ تعالیٰ سود کو حرب من اللہ ٹھہراتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ اس کو حرام ٹھہراتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لعنت بھیجتے ہیں تعامل اسلام میں کوئی اس کا مجوز نہیں۔پھر اس کے جواز کی کون سی دلیل شرعی ہوسکتی ہے یہاں تک مشاہدہ صحیحہ میں بھی اس کے خلاف ہے۔بڑے بڑے بنکوں کے دیوالے نکلتے آپ نے دیکھے نہیں تو اخبارات میں ضرور پڑھے ہوں گے۔یہ آفت اسی سود کی وجہ سے آتی ہے اور ایسے بار یک در بار یک اسباب کے ذریعہ سے آتی ہے کہ دوسرے اس کو نہیں سمجھ سکتے۔جن لوگوں نے سلطنت لکھنو کے زوال کے اسباب پر غور کی ہے وہ منجملہ اسباب کے ایک وجہ سود بھی ٹھہراتے ہیں جو پر امیسری نوٹوں کے رنگ میں لکھنو کے اعیان سلطنت میں مروج ہوا تھا اور آخر ان کو اپنے روپیہ کے ضائع ہونے سے بچانے کے لئے وہ رنگ اختیار کرنا پڑا جو سلطنت کی تباہی کا موجب ہوا۔غرض سود ہر حال میں قطعا منع ہے۔(احکم جلد ۸ نمبر ۲۳، ۲۴ مورخہ ۱۷، ۲۴ / جولائی ۱۹۰۴ صفحه ۱۴)