حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 613 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 613

حقائق الفرقان ذلت سے بچا رہوں۔۶۱۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة غَنِيٌّ حَلِيمٌ۔اللہ کو اپنی ذات کے لئے صدقوں کی کچھ پرواہ نہیں۔وہ حلیم ہے اور الصَّدَقَةُ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ - (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳ مورخه ۲۰ رمئی ۱۹۰۹ صفحه ۵۰،۴۹) ۲۶۵ ۲۶۶ - يَاَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَتِكُمْ بِالْمَنَّ وَ الْأَذَى كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانِ عَلَيْهِ تُرَابِ فَاَصَابَهُ وَابِلَ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ - وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ وَ تَثْبِيتًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةِ بِرَبُوَةٍ اَصَابَهَا وَابِل فَاتَتْ أَكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِنْ لَمْ يُصِبُهَا وَابِلٌ فَطَلُّ وَاللَّهُ بِمَا دو تعملون بصير -۔ترجمہ۔اے ایمان دارو! اکارت نہ کرو اپنی خیرات احسان جتا کر اور ایذا دے کر اُس شخص کی طرح جو خرچ کرتا ہے اپنا مال لوگوں کے دکھانے کو اور اللہ کو نہیں مانتا اور نہ مرکر جینے کو تو اس کی خیرات کی مثال ایسی ہے جیسی ایک ڈھلوان سل جس پر مٹی پڑی ہے پھر برسی اُس پر سخت بارش تو (چھوڑ گئی اُس کو یا) وہ رہ گئی سپاٹ سسل نہ ہاتھ لگے گا اُن کے کچھ اُس چیز سے جو کچھ بو یا انہوں نے اور اللہ کا میاب نہیں کرتا قوم کا فرمنکر کو۔اور اُن کی مثال جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کو خوش کرنے کے لئے اور اپنی نیت ثابت رکھ کر جیسے ایک باغ ہے دریا کی ترائی کی زمین کا جہاں بیج جلد اگ جاوے اس پر زور سے برسات برسی تو وہ باغ بڑا پھل دار ہو گیا اور اگر اُس پر زور سے بارش نہ برسی تو اسے اوس اور تَرَشُخ ( ہی بس ہے ) اور اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔تفسیر۔واہل۔پورا مینہ۔تَثْبِيتًا مِنْ اَنْفُسِهِمُ کسی کے کہنے سننے سے نہ ہو۔فوری جوش نہ ہو بلکہ دل کے پکے ارادے سے ہو۔پہلے بتا یا خرچ کیوں کرو۔پھر بتا یا خرچ کس طرح کرو۔ریا کے لئے نہ ہو۔احسان نمائی اور