حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 612 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 612

حقائق الفرقان ۶۱۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة سخت غلطی کی ہے جو اس آیت کی نسبت لکھ دیا ہے کہ صرف صحابہ کے لئے تھی اب یہ بات نہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۸ مورخه ۲۰ مئی ۱۹۰۹ء صفحه ۴۹) ۲۶۴ - قَوْلُ مَعْرُوفٌ وَ مَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى وَاللَّهُ غَنِيٌّ دو ترجمہ۔بھلی بات کہہ دینا اور استغفار کرنا بہتر ہے اُس خیرات سے جس کے پیچھے اذیت اور تکلیف دینا ہو اور اللہ فنی اور بڑا بُردبار ہے۔تفسیر - قول مَعْرُوفٌ۔سائل سوال کرتا ہے تو اس وقت چار مشکلات ہوسکتی ہیں۔مسئول کے لئے یہ دھو کہ۔مثلاً جیب میں روپیہ پیسہ ہیں مگر دل دینے میں مضائقہ کرتا ہے۔کئی عذرات سامنے آتے ہیں کہ آمدنی کم ہے۔فلاں فلاں خرچ در پیش ہے پس دوں تو کیونکر دوں؟ احتیاج لازم حال ہے۔کنبہ بہت ہے یا پاس کچھ نہیں اور دل چاہتا ہے۔یہ ظاہر داری کا تقاضا ہے کہ کچھ دے۔اسی طرح سائل یا تو ایسا ہے کہ واقعی محتاج ہے یا وہ بطور پیشہ و عادت کے مانگتا ہے۔جیسے کہ میں نے ایک عورت کو سونے کا زیور پہنے مانگتے دیکھا پوچھا تو کہا یہی ہمارا پیشہ ہے۔گویا یہ چار صورتیں ہیں۔اب اللہ ان کے لئے دو نکتے سکھاتا ہے اگر جیب میں ہے اور دے نہیں سکتا تو کوئی اچھی بات ہی کہہ دے جو اس کے حق میں مفید ہو۔ایسا ہی پاس کچھ نہیں تو قول معروف ہی اس کے بدلے میں کر دے۔یہ مسئول کے لئے ہے اور سائل کے لئے قول معروف یہ ہے کہ اپنے آپ کو سمجھائے۔باوجود ہونے کے کیوں سوال کرتا پھرتا ہے؟ اگر واقعی احتیاج سے سوال کرتا ہے تو بھی اپنے لئے قول معروف کرے کہ کیوں عجز اختیار کر رکھا ہے کوئی پیشہ اختیار کر۔ایسا ہی اگر مسئول کے پاس ہے اور دیتا نہیں تو استغفار کرے کہ جو دوسخا مثمر ثمرات طیبہ کے لئے شرح صدر عطا ہو۔اگر پاس کچھ نہیں اور دینا چاہتا ہے تو بھی استغفار کرے کہ اللہ تعالیٰ مجھے کشائش دے یا سائل کے لئے استغفار کرے۔ایسا ہی وہ سائل جو ہے اگر باوجود مال کا مالک ہونے کے مانگتا ہے تو استغفار کرے کہ کیوں خواہ مخواہ ذلت میں گرفتار ہے۔اگر واقعی ہے نہیں پھر بھی استغفار پڑھے کہ اللہ اپنی جناب سے رزق دے اور سوال کی