حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 611
حقائق الفرقان “་་ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ج- وَيَسْتَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ (البقرة:۲۲۰) ـ د ـ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ الله (البقرة : ۲۷۳) کس طرح دے؟ پس جس کو دے اس پر احسان نہ جتائے۔اسے دکھ نہ دے۔ظاہر دے تو یہ بھی اچھا اور اگر پوشیدہ دے تو یہ اس کے حق میں بہتر۔ارشاد ہوتا ہے۔(1) لا تُبْطِلُوا صَدَقَتِكُمْ بِالْمَن وَالأذى (البقرة: ۲۶۵) (۲) إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقْتِ فَنِعِمَّا و دو در هِيَ وَ اِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ کے فرق کو غور سے دیکھنا چاہیے۔کس کس کو لکھ دے۔فقراء کو مساکین کو۔ان لوگوں کو جو اللہ کی راہ میں رو کے گئے ہوں یعنی طلباء ، علماء جو محض دین کے کاموں میں مصروف ہوں اور اِس وجہ سے کوئی کسب نہ کر سکتے ہوں۔لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أَحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ (البقرة: ۲۷۴) تشخیذ الا ذہان جلد ۸ نمبر ۱۔جنوری ۱۹۱۳ء صفحہ ۳۲) ۲۶۳ - الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتَّبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا مَنَّا وَ لَا أَذًى لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يحزنون - لا ترجمہ۔جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں پھر خرچ کئے پیچھے نہیں جتاتے احسان اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور نہ اُن کو کسی قسم کا آئندہ خوف ہو گا اور نہ وہ گزشتہ ہی عمل کے لئے غمگین ہوں گے۔تفسیر۔وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔یہ خیرات کی برکات بتائی ہیں کہ مشکلات میں خیرات کرنے والے کو خوف اگر لاحق ہو تو وہ دور کیا جاتا ہے اور پھر اسے خون نہیں ہوتا۔ایک مفسر نے لے اور تجھ سے پوچھتے ہیں کس قدر خرچ کریں ؟ جواب دے ضرورت سے جس قدر زائد ہو یا جس کے خرچ کرنے سے مال میں نقصان زیادہ نہ معلوم ہو۔۲ تمہارا خرچ کرنا اللہ ہی کی رضا کے لئے ہوا۔۳ اکارت نہ کرو اپنی خیرات احسان جتا کر اور ایذا دے کر۔ہے ( خیرات دیا کرو ) اُن تنگ دستوں کو جو رُکے ہوئے ہیں اللہ کی راہ میں چل پھر نہیں سکتے ملک میں۔(ناشر)