حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 610 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 610

حقائق الفرقان ۶۱۰ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اس کا گھر ہے۔ابھی تو رابعہ بصری کا حصہ پڑا ہے چنانچہ پھر اسے ہیں روٹیاں دیں جو وہ لائی تو آپ نے بڑی خوشی سے لے لیں کہ واقعی یہ ہمارا حصہ ہے۔اس وقت جاریہ اور مہمانوں نے عرض کیا کہ ہم اس نکتہ کو سمجھے نہیں۔فرمایا۔جس وقت تم آئے تو میرے پاس دو روٹیاں تھیں۔میرے دل میں آیا کہ آؤ پھر مولیٰ کریم سے سودا کر لیں اس وقت میرے مطالعہ میں یہ آیت تھی مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ امْثَالِهَا اس لحاظ سے دو کی بجائے ہیں آنی چاہیے تھیں۔یہ اٹھارہ لائی تو میں سبھی کہ میں نے تو اپنے مولیٰ سے سودا کیا ہے وہ تو بھولنے والا نہیں۔پس یہی بھولی ہے۔آخر یہ خیال سچ نکلا۔یہ بات واقعی ہے کہانی قصہ نہیں۔میں نے خود بار با آزمایا ہے۔مگر خدا کا امتحان مت کرو۔اُس کو تمہارے امتحانوں کی کیا پرواہ ہے۔خدا کے قول کا علم عام کھیتی باڑی سے ہوسکتا ہے۔بیج ڈالا جاتا ہے تو اس کے ساتھ کیڑے کھانے کو موجود، پھر جانور موجود، پھر ہزاروں بلائیں ہیں ، ان سے بیچ کر آخر اس دانے کے سینکڑوں دانے بنتے ہیں۔اسی طرح جو خدا کی راہ میں بیج ڈالا جاوے وہ ضائع نہیں جاتا۔اب اس سوال کا جواب تو ہو گیا کہ کیوں دے؟ اب بتاتا ہے کس طرح دے؟ اول تو یہ کہ محض ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللہ دے۔احسان نہ جتائے۔بعض لوگ ملاں کو کہتے ہیں ہماری روٹیوں کا پلا ہوا۔تو یہ حد درجہ کی سفاہت و یکمینگی کی بات ہے۔دوم کسی کو تکلیف نہ دے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۸ مؤرخہ ۲۰ مئی ۱۹۰۹ ء صفحه ۴۹) تمام کتب الہیہ سے زیادہ قرآن مجید میں خیرات کے متعلق ہدایات ہیں۔اس میں بتایا گیا ہے کیوں دے؟ اس لئے کہ جو اللہ کی راہ میں دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بہت عمدہ بدلہ دیتا ہے اس کے مال کو بڑھاتا ہے وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ - ۲ - يُرْبِي الصَّدَقتِ (البقرة : ۲۷۷) کیا دے؟ عفو یعنی جو حاجت اصلیہ سے زیادہ ہو۔حلال اور طیب مال دے۔رڈی چیز نہ ہو۔ابتغاء لوجہ اللہ دے۔چنانچہ فرماتا ہے اَنْفِقُوا مِنْ طَيْبَتِ مَا كَسَبْتُمْ - ب - وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيْثَ مِنْهُ (البقرة: ۳۶۸) ا جو کوئی نیکی لے کر آوے تو اس کے لئے اُس کا دس درجہ بڑھ کر فائدہ ہے۔۲ خیرات کو پالتا ہے۔سے اور خبیث یعنی بُری چیزوں کا ارادہ نہ کرنا کہ دینے لگو اُس سے (فقیروں کو)۔