حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 607 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 607

حقائق الفرقان ٦٠٧ سُورَةُ الْبَقَرَة صُرْهُنَّ - صر کے عربی میں دو معنے ہیں ایک اپنی طرف مائل کرنا۔ ایک شعر یاد آ گیا۔ لو وَ مَا مَيْلُ الْأَخْلَاقِ فِيهِمْ حَبْلَةٌ وَلكِنْ أَطْرَافُ الرِّيَاحِ تَصَوَّرُهَا ابن عباس نے بھی اس کے معنے اَمِلُهُنَّ کئے ہیں ۔ الی کا صلہ بھی یہی معنے چاہتا ہے۔ دوسرے معنے کچل دینے کے ہیں۔ میرے نزدیک کلام الہی میں جتنی وسعت ہو سکے کرنی چاہیے۔ پس دونوں معنے صحیح ہیں ۔ ۔ يَأْتِينَكَ سَعيًا ۔ پہلے کے مطابق یہ مطلب ہے کہ جب تھوڑی سی ربوبیت کا یہ اثر ہے کہ تم ان کو اپنی طرف بلاؤ تو تمہاری طرف دوڑے آتے ہیں تو پھر رب الارباب کے بلانے سے کیوں نہ آئیں گے؟ دوسرے معنے کے لحاظ سے یہ مطلب ہے کہ خدا نے ان کو دوسرے عالم میں زندہ کیا اور یہ کیفیت کشف میں ابراہیم کو دکھا دی۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۸ مورخه ۶ رمئی ۱۹۰۹ صفحه ۴۸) جب حضرت خلیل نے جناب النبی میں عرض کیا کہ کس طرح پر ویرانی سے آبادی ہوگی تو خدا نے اپنی صفت ربوبیت کی طرف متوجہ کیا کہ تم چار پرندوں کو پالو اور انہیں اپنی طرف بلاؤ۔ چلے آئیں گے۔ اسی طرح پر میری ربوبیت ایسے اسباب مجتمع کرلے گی جو اس بستی کو آباد کر دے۔ ( تشحیذ الاذہان جلدے نمبرے ۔ جولائی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۳۳۳) صُرْهُنَّ اَمِلُهُنَّ نَحْوَكَ مِنَ الصُّورِ الى الميل - پس صڑھنے کے معنی ہوئے اپنی طرف مائل کرلے۔ مفردات القرآن اور کتب لغت میں ہے۔ حضرت ابراہیم کو ان کے ایک سوال پر اللہ تعالیٰ نے ایک دلیل بتائی ہے کہ کس طرح مردے زندے ہوں گے۔ اس پر فرمایا۔ دیکھ! ان جانوروں کو جو جسم اور روح کا مجموعہ ہیں۔ تیری ذرہ سی پرورش کے سبب سے تیرے بلانے پر پہاڑیوں سے تیری آواز سن کر چلے آئیں گے تو کیا میں جو ان کا لے اور اخلاق کی طرف میلان اُن میں ذمہ داری اور عہد ہے لیکن اس کو ادھر اُدھر کی ہوائیں اپنی طرف مائل کرتی ہیں ۔ ۲۔ صُرْهُنَّ کے معنی ہیں ۔ انہیں اپنی طرف مائل کر لے۔ یہ صوز سے ہے جس کے معنی مائل کرنا ہیں۔ (ناشر)