حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 606 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 606

حقائق الفرقان ۶۰۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ۲۶۱۔وَ اِذْ قَالَ إِبْرَاهِمُ رَبِّ اَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتى - قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنُ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْبِنَ قَلْبِي قَالَ فَخُذُ ارْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرُهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَى كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعَيًّا وَاعْلَمْ أَنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ - ترجمہ۔(اور اے پیغمبر وہ کیفیت بھی بیان کر) جب کہا ابراہیم نے اے میرے رب مجھ کو دکھا دے کہ تو کس طرح زندہ کرتا ہے یا کرے گا مُردے۔فرمایا کیا تجھ کو یقین نہیں۔عرض کی جی ہاں ! یقین تو ہے لیکن میں ذرا دل کی تسکین ( اور ) چاہتا ہوں۔اللہ نے فرما یا تو چار پرندے لے اور ھلا لے اُن کو اپنے پاس پھر ڈال دے ہر پہاڑی پر اُن میں سے ایک جزء پھر پکار اُن کو تیرے پاس دوڑتے چلے آئیں گے اور جان رکھ تو کہ بے شک اللہ زبردست حکمت والا ہے۔تفسیر - وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تَنِي الموٹی۔یہ تیسری مثال بھی جہاد کے متعلق ہے۔مجاہد فی سبیل اللہ۔جب اللہ کی راہ میں مارا جاتا ہے تو ضرور اللہ اس کو ایک حیات بخشتا ہے اور اس پر ایک فضل ہوتا ہے۔وہ اپنے (خدا) سے رزق پاتا ہے۔ابراہیم جو حنفاء کے باپ تھے انہوں نے اس نظارہ کو دیکھنا چاہا کہ اس عالم میں شہداء کس طرح زندہ کئے جاتے ہیں۔گیف سے کسی کا وہم ہو سکتا تھا کہ شاید آپ مانتے نہ تھے اس لئے اس وہم کو سوال و جواب کے پیرائے میں دُور کیا۔او لَمْ تُؤْمِنْ۔ایمان نہیں؟ قال بلی۔کہا کیوں نہیں۔وَلكِنْ لِيَطْبِنَ قَلبی - شنیدہ کے بود مانند دیدہ۔دید شنید میں فرق ہے۔میں نظارۂ قدرت کو دیکھنا چاہتا ہوں۔فَخُذْ اَرْبَعَةُ مِنَ الطَّيْرِ - چار پرندوں کے لانے کا حکم دیا۔چار کی تعداد اس لئے مناسب ہے کہ انسان کی بھی چارہی غلطیں ہوتی ہیں۔لے سنے والا ، دیکھنے والے کی مانند کیسے ہو سکتا ہے؟ ۲ صفرا سودا کون، بلغم (ناشر)۔