حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 601
حقائق الفرقان ۶۰۱ سُورَةُ الْبَقَرَة رب ہے جو آباد کرتا ہے اور ویران کرتا ہے۔احیاء و امانت کے اس مقام پر یہی معنے ہیں کیونکہ مردوں کا اس دنیا میں زندہ کرنا سنت اللہ نہیں۔اس مخالف نے بھی یہی مطلب سمجھا۔اس واسطے جواب میں کہا انا أخي و امیت کہ میں آباد سے ویران اور ویران سے آباد کرتا ہوں۔کسی کو جا گیر دے دی۔انعام دیا۔آباد ہو گیا۔کسی کو لوٹ لیا۔ویران ہو گیا۔چونکہ یہ جواب بہت ناقص تھا اور وہ مجوسی۔( قرآن مجید کی متعدد آیات سے یہ امر واضح ہے کہ ابراہیم کے مقابلہ میں مجوسی قوم تھی ) اور مجوسی اجرام سماوی کی پرستش کرتے تھے۔حضرت ابراہیم نے کئی کئی رنگوں میں ان پر اتمام حجت کی۔مثلاً ایک جگہ کو کب ، قمر ، سورج کو بطور استفہام انکاری هذا ربي کہہ کر پھر نتیجہ نکالا ہے اتي بري تما تُشْرِكُون مجوسیوں نے بہت برا اثر پھیلایا (ایران کے لڑیچر میں اجرام کی تعریف پائی جاتی ہے بعض مسلمان بھی اس اثر سے متاثر ہو گئے۔سکندر نامہ دیکھو پھر ابوالفضل کی تصنیف جس میں آفتاب کو حضرت نیر اعظم لکھا گیا ہے ) تھا اس لئے حضرت ابراہیم نے اسے خوب جواب دیا کہ یہ آبادی و ویرانی تو اجرام سماوی کے اثر سے وابستہ ہے جب آپ مُخی و مینیت ہیں تو گویا آپ کو دعوی ہے کہ سورج پر بھی میں ہی حکمران ہوں اور یہ اجرام سب تمہارے ماتحت ہیں حالانکہ یہ اس کے اور اس کی جماعت کے عقائد کے خلاف تھا اس لئے وہ یہ جواب سن کر فَإِنَّ اللهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ مبہوت رہ گیا یعنی اگر سورج تمہارے ماتحت ہے تو اپنا تصرف تفخیذ الا ذہان جلدے نمبر ۷ جولائی ۱۹۱۲ء صفحہ ۳۳۱، ۳۳۲) دکھاؤ۔اَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ۔اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی سمجھایا ہے کہ انسان جب اللہ کے حضور کامل یقین سے دعا کرتا ہے تو وہ کبھی محروم نہیں رہتا۔دعا میں تین مشکلات لوگوں کو پیش آئی ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ خدا کی خدائی اور اس کی حکمتوں پر ایمان نہیں لاتے۔قسم قسم کی خواہشیں کرتے ہیں جن کا نتیجہ ان کے حق میں اچھا نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ جب قبول نہیں کرتا تو وہ نادانی سے دعا ہی کے منکر ہو جاتے ہیں حالانکہ اگر ان کی یہ دعائیں قبول ہوں تو دنیا فنا ہو جائے۔عورتوں ہی کو لو وہ بچوں سے تنگ آ کر انہیں کس طرح کوستی ہیں۔ایک عورت ایک