حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 600 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 600

حقائق الفرقان ۶۰۰ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اور ان میں سے بعض اپنی کسی فطری سعادت کی وجہ سے جو کہ ان کے نطفہ میں آئی ہوتی ہے ہدایت پا جاتے ہیں اُن کی کفر اور فسق کی حالت کا نام موت ہوتا ہے اور ہدایت پا جانے کو احیاء سے تعبیر کرتے ہیں۔الحکم جلد 9 نمبرے مورخہ ۲۴ / فروری ۱۹۰۵ ، صفحہ ۷) بھلا دھیان تو کرو اُس شخص کی طرف جس نے ابراہیم راست باز سے رب کی بابت بحث کی۔کیا یہ بحث بدلہ تھی اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پادشاہی دے رکھی تھی۔جب ابراہیم علیہ السلام راستباز نے کہا میرا رب تو ایسا طاقتور ہے کہ زندہ کرتا اور مارتا ہے تو اس نادان نے (غور کرو) کیا جواب دیا؟ میں بھی مارتا اور زندہ کرتا ہوں۔جب ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ یہ ایسا نادان ہے کہ زندہ کرنا اور مارنا ہی نہیں سمجھتا۔تو فرمایا اچھا اللہ تعالیٰ تو سورج کو مشرق کی جانب سے طلوع کرتا ہے تو سورج کو مغرب کی طرف سے لا دکھا۔اتنی بات سن کر کا فر بغلیں جھانکنے لگا اور اللہ تعالیٰ تو ایسے بدکاروں کو بحث کی سمجھ بھی نہیں دیتا۔تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۴۰) اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ وہ کیونکر دنیا میں احیاء و امانت یعنی ویرانی سے آبادی کرتا ہے۔پہلے تو اس مضمون پر ایک مباحثہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مجوسی قوم کے ایک شخص کے ساتھ ہوا۔آن الله الله المُلک میں ضمیر کا مرجع اگر حضرت ابراہیم ہوں تو اشارہ ہے وَ كَذلِكَ نُرِى إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّبُواتِ وَالْأَرْضِ ( الانعام: ۷۲ ) کی طرف۔اور اگر مرجع و خصم عنید ہو تو یہ کہ مخالف کسی جاگیر و جائیداد پر تصرف رکھتا تھا۔بعض نادانوں کو اس بات نے بہت گمراہ کیا ہے کہ وہ خواہ مخواہ ناموں کی تدقیق و تحقیق میں مشغول ہو جاتے ہیں اور اصل مقصود کی طرف توجہ نہیں رہتی۔بعض لوگوں نے اس مخالف کو نمرو سمجھا ہے اور پھر یہ اعتراض پیش آیا کہ آیا نمرود حضرت ابراہیم کے زمانے میں تھا بھی یا نہیں ؟ حالانکہ اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ ہم خواہ مخواہ ناموں کے پیچھے پڑ جائیں۔کوئی ہو۔ہم نے تو یہ دیکھنا ہے کہ جب حضرت ابراہیم نے فرما یار تي الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ میرا اے اور ہم نے اسی طرح دکھائے ابراہیم کو آسمان اور زمین کے ملک ( و عجائبات و تصرفات )۔( ناشر )