حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 597
حقائق الفرقان ۵۹۷ سُورَةُ الْبَقَرَة میں مقابلہ میں کامیاب ہو جاؤں گا اور اس غریب جماعت کو ہلاک کر دوں گا مگر آخر وہ خود ہلاک ہوتا ہے۔یہ مخالف نادانی سے انبیاء کے ہمراہیوں کو ذلیل سمجھتے ہیں چنانچہ نوٹ کے ماننے والوں کو اس کی قوم کے امراء کہتے ہیں آرا ذِلُنَا بَادِى الرأي (هود: ۲۸) پھر موسیٰ علیہ السلام کو بھی فرعون نے یہی کہا أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيْدًا وَ لَبِثْتَ فِيْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ (الشعراء: ۱۹) کیا ہم نے تمہاری پرورش نہیں کی اور تو اپنی عمر کے بہت سال یہاں نہیں گزار چکا۔اس کا جواب موسی نے بھی کیا خوب ديا۔وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَنْتُهَا عَلَى أَنْ عَبْدُكَ بَنِي إِسْرَاءِيلَ (الشعراء: ۲۳) کیا یہ کوئی بڑی نیکی ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتا رہا ہے حالانکہ اس کی جڑ یہ ہے کہ تو نے تمام بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے پس کیا ہوا اگر ان کے ایک بچے نے تمہارے ہاں پرورش پالی اگر تم پرورش نہ کرتے تو کیا اس کے ماں باپ پر اس کی روٹی دو بھر تھی؟ غرض پاک لوگوں اور ان کے اتباع کو یہ نادان حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر خدا تعالیٰ ان کو مقابلہ میں ذلیل کرتا ہے چنانچہ اس کے ثبوت کے لئے حضرت ابراہیم کا قصہ بیان کیا ہے۔آپ کی قوم مجوسیوں کی تھی جو سورج چاند کی پرستش کرتے تھے۔ان میں جس کو خدا نے حکومت دی تھی ابراہیم نے کہا کہ رَبِّيَ الَّذِي يُخي وَيُمِيتُ میرا رب ہی ہے کہ جو آبادی اور ویرانی کرتا ہے۔یہاں احیاء وامانت کے یقینا یہی معنے ہیں۔غلطی کرتے ہیں وہ جو یہاں زندہ کرنے اور مارنے کے معنے لیتے ہیں کیونکہ یہ تو ایک بیوقوف سے بیوقوف بھی دعوئی نہیں کرتا کہ حیات و ممات طبعی کا موجد میں ہوں۔اس کے ثبوت میں ہم موت کے کئی معنے پیش کرتے ہیں جو لغات عرب سے ثابت ہیں۔موت کے ایک معنے ہیں نشو و نما کے۔چنانچہ فرما یا یخی الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحدید: ۱۸) اور أَحْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مِّيْتًا احساس کا دُور ہونا۔قوی کا زوال جیسے اس آیت میں یکیتَنِي مِن قَبْلَ هَذَا وَ كُنْتُ نَسْيًا منسيا (مریم: ۲۴) مرجانے کی دعا جیسے احادیث میں منع ہے ایسے ہی تو رات میں بھی۔پس مریم اپنے لئے موت کی دعا نہیں کر سکتی تھی۔۳۔زوال عقل۔أَوَ مَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَهُ (الانعام: ۱۳۳) ا ہم میں کے ذلیل (سطحی رائے والے ) اور یہ ہماری رائے کھلی ہے۔(ناشر) ۲؎ کہ اللہ زمین کو اس کے مرے بعد زندہ کیا کرتا ہے۔سے کاش اس سے پہلے ( یعنی درد سے ) مجھے ششی آ جاتی ( یا میں مرگئی ہوتی )۔