حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 598
حقائق الفرقان ۵۹۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة یعنی کم عقل ، بے ایمان، انسانیت سے نابلد تھے۔آخر وہ انبیاء کی پاک صحبت سے عقلوں والے ہو گئے۔۴۔حزن مكدر للحياة - يَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَمَا هُوَ بِمَيْتٍ (ابراهيم: ۱۸) ہر طرف سے دُکھ اور حیات کو مکۃ رکرنے والے آئیں گے۔۵۔نیند کے معنے۔سونے کے بعد اُٹھے تو یہ دعا احادیث میں آئی اَلْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا - ۶ - قوتِ حیات کا بطلان - إِنَّكَ مَيْت وَإِنَّهُمْ مَّيْتُونَ (الزمر: ۳۱) ۷۔جن کا بدلہ نہ لیا جاوے وہ بھی مردہ ہیں۔سبعہ معلقہ کا ایک شعر ہے انْ نَبَثْتُمْ بَيْنَ مِلْحَةَ فَالصَّا قِبِ فِيهَا الْأَمْوَاتُ وَالْأَحْيَاء لا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ اَمْوَاتٌ بَلْ أَحْیا۔زندہ کہنے سے یہ مراد ہے کہ ان کا بدلہ لیا جاوے گا۔غرض یہ موت کا لفظ متشابہ رنگ میں آیا ہے۔پس جو راسخ فی العلم ہوتے ہیں وہ مختلف المعانی الفاظ کو حسب موقع معنی کا لباس پہناتے ہیں۔۸۔ترقی کے رُک جانے کا نام بھی موت ہے۔۹۔فقر کا نام بھی موت ہے۔۱۰۔موت العقل۔موت العلم اور ذلت کا نام بھی موت ہے۔أَوَّلُ مَنْ مَّاتَ إِبْلِيسُ۔پس یہاں حسب موقع موت کے معنے ویرانی کے ہیں۔ابراہیم نے کہا کہ آبادی و ویرانی میرے رب کے اختیار میں ہے۔وہ کافر بولا نہیں یہ کام بادشاہوں کے متعلق ہے۔میں بھی بادشاہ ہوں پس یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں۔سبحان اللہ۔انبیاء کی کیا عقل ہوتی ہے۔فرما یا اِنَّ اللهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ نادان خیال تو کر تو اپنے مذہب کو چھوڑ بیٹھا ہے تم تو سورج کی پرستش کرتے ہو اس وجہ سے کہ فصول وغیرہ کو اسی سے وابستہ سمجھتے ہو۔اب اگر احیاء وامانت ( ویرانی۔آبادی ) تمہارے اختیار میں ہے تو گویا سورج تمہارا معبود نہیں بلکہ وہ تمہارے قبضہ اختیار میں ہے۔پس اگر یہ بات ہے تو تم اس کی لے اگر تم اس زمین کی کھود کرید کرو گے جو ( مقام ) ملحہ اور صاحب کے درمیان ہے تو اس میں کچھ مردے تمہاری قوم کے مقتولین جس کا خون بہا نہیں لیا گیا ) اور کچھ کچھ زندہ ( ہماری قوم کے وہ مقتولین جن کا بدلہ لے لیا گیا ہے ) ملیں گے۔(ناشر)