حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 50 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 50

حقائق الفرقان لے سُوْرَةُ الْبَقَرَة سے یہ یقین ثابت ہوتا ہے کہ ہ یقینا شفاء للناس ہے اور اس کے عملدرآمد سے میں علی وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ اس پر عمل کرنے سے انسان فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة: ٣٩) کا مصداق ہو سکتا ہے۔ہاں اس تعلیم کی خلاف ورزی سے غلطی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور بڑے بڑے نقصان اس کو اٹھانے پڑتے ہیں۔جہاں تک میری نظر جاتی ہے اور میں نے غور کیا ہے یہ بالکل امر واقعی ہے۔ہوسکتا ہے تمہارے علوم، تجربے اور معلومات میں وسعت ہو۔ہوسکتا ہے میرے بیان میں کمزوری ہو۔ہو سکتا ہے تمہیں ایک واقعہ معلوم ہو اور مجھے نہ ہومگر یہ بات کہ میری عمر بڑی ہو چکی ہے اور قوی ضعیف ہو چکے ہیں اگر چہ میرے کان ، زبان وہ طاقت نہ رکھتے ہوں مگر یہ یقینی بات ہے کہ قرآن مجید پر عمل انسان کو خوف و حزن سے نکال دیتا ہے۔میں نے اپنی تمام عمر میں تجربہ کیا ہے اور جہاں تک میں قرآن کریم کی تعلیم کو سمجھتا ہوں انسان خوف وحزن سے بچ جاتا ہے۔میرے دوست بے شک کہہ دیں کہ کیا میں کبھی غمگین ہوا ہوں یا انہوں نے مجھے کسی خوف سے روتے دیکھا ہے۔وہ برسوں سے میرے پاس رہتے ہیں۔انہوں نے مجھے خوف اور حزن میں نہیں دیکھا پس اگر تم خوف و حزن سے بچنا چاہو اور اس کا علاج کرنا چاہو تو قرآن کریم کی اتباع سے ہوتا ہے مگر ایک شرط ہے۔وہ یہ ہے کہ علم صحیح ہو اور اس کے ساتھ عمل ہو۔علم بدون عمل کے کچھ فائدہ نہیں دیتا۔مثلاً یہاں کنواں ہے کوئی شخص جو اس کا علم صحیح رکھتا ہے وہ اس میں نہیں گرے گا۔مسلمانوں کو یہ صحیح علم ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم کے ذریعہ وہ خوف وحزن سے محفوظ رکھے گئے لیکن جب تک عمل نہ ہو کچھ فائدہ نہیں۔البد رجلد ۱۲ نمبر ۳ مورخہ ۱۸؍ جولائی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۷) الم - ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ (البقرة : ۲ ، ۳) - یہ سُورت جس کا نام اللہ ہے۔وہ کتاب ہے (جس کے اُتارنے کا موسیٰ علیہ السلام کی کتاب استثناء کے باب ۱۸ میں وعدہ ہو چکا ) اِس میں شک وریب کی جگہ نہیں۔(ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات۔تصنیف حضرت خلیفہ اسی الاول کمپیوٹرائزڈ ایڈ یشن صفحہ ۸) هُدًى لِلْمُسْتَقِيْنَ - اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں دُعا مانگی گئی تھی کہ ہمیں راہ ہدایت دکھا۔یہاں منعم علیہم لے اُسے کسی قسم کا نہ آئندہ خوف ہوگا اور نہ گزشتہ ہی عمل کے لئے وہ ٹھگین ہوگا۔( ناشر )