حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 49 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 49

حقائق الفرقان ۴۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة کے معنے ھذا کے ہیں یعنی اس کا لام دوری کے لئے نہیں بلکہ تاکید کے لئے ہے جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے ذلِكَ تَتْلُوهُ عَلَيْكَ (ال عمران: ۵۹) ( ترجمہ ) : یہ وہ ہے جو کہ ہم تیرے پر پڑھتے ہیں اور پھر فرما یا ان هذا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ (ال عمران : (۶۳) (بے شک یہ حق بیان ہے ) تو پہلے قرآنِ مجید یا ایک سورۃ یا ایک واقعہ کے لئے ذلك لانا اور پھر اسی کے لئے وہاں پر ہی ھذا لانا صاف دکھاتا ہے کہ ان دونوں کے ایک ہی معنے ہیں ورنہ ایک چیز ایک ہی وقت میں بعید اور قریب کس طرح ہو سکتی۔اور ایک دوسری آیت کریمہ میں قرآن مجید کے لئے ھذا بھی آیا ہے جیسا فرما يا هذا كتب اَنْزَلْنَهُ اِلَيْكَ :(الانعام: (۹۳) یه کامل کتاب ہے جو ہم نے تیری طرف اُتاری ہے۔تو اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ ذلِكَ ، هذا کے معنوں میں ہے اور فراء نے کہا ہے کہ ذلك دوری کے لئے ہے لیکن دوری اکثر تو مکانی ہوتی ہے اور کبھی مرتبہ کے لحاظ سے ہوتی ہے اور یہاں پر بھی مرتبہ کے لحاظ سے ہے یعنی وہ عظیم الشان کتاب جو کہ اپنی عظمت اور رفعت کے لحاظ سے نوع انسان سے بہت دُور اور ارفع ہے جیسا کہ حضرت یوسف کی نسبت عزیز مصر کی بی بی کا قول نقل ہے فَذَلِكُنَ الَّذِي يُبْتُنَنِي فِيْهِ (يوسف:۳۳) ( یہ وہ عظیم الشان شخص ہے کہ جس کی نسبت تم مجھے ملامت کرتی ہو )۔رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۳ ستمبر ۱۹۰۶ صفحه ۱۰۳،۱۰۲) ذلِكَ الْكِتَبُ لا رَيْبَ فِيهِ۔پس ایک کتاب ہے جس میں کوئی ہلاکت کی راہ نہیں یا شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ریب کے دو معنے ہیں شک وشبہ اور ہلاکت۔اور دونوں ہی یہاں خوب لگتے ہیں۔قرآن کریم میں شک وشبہ نہیں۔بالکل درست ہے۔اس کی ساری ہی تعلیم یقینیات پر مبنی ہے نطقی اور خیالی نہیں۔یا آجکل کی اصطلاح میں یوں سمجھ لو کہ قرآنِ مجید میں تھیوریاں نہیں بلکہ بصائر ہیں۔وہ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ (بنی اسراءیل:۱۰) ہے۔پھر قرآن مجید میں ہلاکت کی راہ نہیں۔یہ بھی سچ ہے کیونکہ اس میں تو شفاء للناس ہے۔(البدر جلد ۱۲ نمبر ا مورخہ ۴؍ جولائی ۱۹۱۲ ء صفحه ۴) لا رَيْبَ فِيهِ (البقرۃ:۳)۔ریب کے دو ترجمہ ہیں (۱) ہلاکت (۲) شک وشبہ۔اور دونوں درست ہیں۔تعلیمات الہیہ میں کوئی تعلیم ایسی نہیں جس سے ہلاکت کی راہ پیدا ہو بلکہ قرآن کے بیان