حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 587 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 587

حقائق الفرقان ۵۸۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اسی طرح اردگرد کے دیہات والے اور کل شہر کے باشندے جمع ہو کر عید کی نماز ایک جگہ پڑھتے ہیں اس میں بھی وہی وحدت کی تعلیم مقصود ہے۔غرض اسلام کے ہر رکن میں ایک وحدت کو قائم کیا ہے پھر اس کو قائم رکھنے کے لئے خاص حکم بھی دیا لا تَنَازَعُوا باہم کشمکش نہ کرو کیونکہ جب ایک کھچا کھچی کرتا ہے تو دوسرا بھی اس میں مبتلا ہو جاتا ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہوا بگڑ جاتی ہے۔جب یہ خود دوسرے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو چونکہ وہ بھی کبر الہی کا مظہر ہے اس لئے تکبر کرتا اور وحدت اُٹھ جاتی ہے۔الحکم جلدے نمبر ۳ مؤرخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۱۴، ۱۵) اسی لئے حکم دیا کہ نزاع نہ کیا کرو ورنہ پھسل جاؤ گے اور فرمایا صبر کرو۔ایسا صبر نہیں کہ کوئی ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسری پھیر دو بلکہ ایسا صبر کرو اور عفو ہو کہ جس میں اصلاح مقصود ہو۔سچے لے مومن بننا چاہتے ہو تو یا درکھو لا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِه - ( بخاری کتاب الایمان باب مِنَ الْإِيمَانِ اَنْ يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ ) اسی وحدت کے قائم رکھنے کے لئے نمازوں میں یک جہتی تھی۔مکہ کا وجود تھا اور اب اس وقت خدا کا کیسا فضل ہے اور کیسی مبار کی کا یہ زمانہ ہے کہ سب سامان موجود ہیں۔مکالمہ الہی ہوتا ہے ایک مطاع مکرم معظم موجود ہے جو اپنے عام چال چلن، مخلوق کے ساتھ تعلقات، معاشرت اور گورنمنٹ کے ساتھ اپنے معاملات کا نمونہ دکھانے سے قوم بنا رہا ہے اس لئے اب کوئی عذر باقی نہیں رہ سکتا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ کہنے کی باتیں ہیں، کرنے کی نہیں۔یہ ان کی غلطی ہے۔اللہ تعالیٰ نے کوئی امر و نہی ایسا نہیں دیا ہے جو انسان کی طاقت سے باہر ہو۔ورنہ اس کی حکیم کتاب قرآن مجید کا یہ ارشاد کہ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: ۲۸۷) باطل ہوگا اور وہ باطل نہیں ہے متقی اور خدا سے ڈرنے والا ایسی بات منہ سے نہیں نکال سکتا یہ صرف خبیث روح کی تحریکیں ہیں۔الإحسان۔اس کے بعد تیسری بات جبرائیل نے پوچھی ہے جس سے دین کی تکمیل ہوتی ہے ا تم میں سے کوئی مومن نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرے جو وہ اپنے نفس کے لئے پسند کرتا ہے۔(ناشر) ۲ اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اُس کی برداشت کے موافق۔( ناشر )