حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 588
حقائق الفرقان ۵۸۸ سُورَةُ الْبَقَرَة اور وہ یہ ہے مَا الْإِحْسَانُ؟ احسان کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ایسا اخلاص اور احتساب ہو کہ تو گویا اس کو دیکھتا ہے اور اگر اس درجہ تک نہ پہنچے تو کم از کم اپنے آپ کو اس کی نگرانی میں سمجھے۔جب تک ایسا بندہ نہ ہو وہ دین کے مراتب کو نہیں سمجھ سکتا۔پس ایسا دین کوئی سلیم الفطرت کہہ سکتا ہے کہ اس میں اکراہ کی ضرورت ہے؟ ہرگز نہیں۔لا إكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَى (البقرۃ: ۲۵۷)اس وقت بھی ویسا ہی وقت ہے جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا۔ہدایت کی راہیں کھلی ہوئی ہیں۔تجربے، مشاہدہ ، سائنس ، قوالی کا نشو ونما، وجدان صحیح ، فطری قوای، رشد اور فی میں امتیاز کرنے کو موجود ہیں۔رُشد کو اقتصاد بھی کہتے ہیں جو افراط اور تفریط کے درمیان کی راہ ہے۔بہت سے لوگ ہیں جو خاص خاص مذاق میں بڑھے ہوئے ہیں۔بعض ایسے ہیں کہ اُن کو کھانے ہی کی ایک دھت ہوتی اور اب وہ اس میں بہت ترقی کر گئے ہیں اور کرتے جاتے ہیں۔بعض کو دیکھا ہے کہ بچپن میں یہ عادت ہوئی اور پھر بڑھتے بڑھتے بہت سی بد اطوار یوں کا باعث بن گئی۔ایسا ہی لباس میں افراط کرنے والے، مکانات میں افراط سے کام لینے والوں کا یہ حال ہے۔ایسا ہی بعض جمع اموال میں ، بعض فضول خرچیوں میں بڑھتے ہیں۔جب ایک کی عادت ڈال لیتے ہیں تو پھر وہ ہر روز بڑھتی ہے۔غرض افراط اور تفریط دونوں مذموم چیزیں ہیں۔عمدہ اور پسندیدہ اقتصاد یا رشد ہے۔یہی حال اقوال اور افعال میں ہے۔اس طرح پر ترقی کرتے کرتے ہم عقائد تک پہنچتے ہیں۔بعض نے تو سوسائٹی کے اصول رسم و رواج سب کو اختیار کر لیا اور مذہب کا جو و قرار دے لیا اور بعض ایسے ہیں کہ ساری انجمنوں کو لغو قرار دیتے ہیں۔غرض دنیا عجیب قسم کی افراط اور تفریط میں پڑی ہوئی ہے۔رُشد اور اقتصاد کی صراط مستقیم صرف اسلام لے کر آیا ہے۔بعض نادانوں نے اعتراض کیا ہے کہ اسلام تو رشد اور اقتصاد سکھاتا ہے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقابلہ کیوں کیا ؟ مگر افسوس ہے کہ ان کو معلوم نہیں انہوں نے تو تیرہ سال تک صبر کر کے دکھایا اور پھر آخر آپ چونکہ کل دنیا کے لئے ہادی تھے تو بادشاہوں اور لے دین میں کچھ زبردستی نہیں بے شک ہدایت گمراہی سے صاف صاف الگ ہو چکی ہے۔( ناشر )