حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 584
حقائق الفرقان ۵۸۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة پڑے۔کون نہیں سمجھتا کہ شجاعت اگر اندر ہوتو وہ اپنے ہاتھ ، باز و اور اعضاء سے محل وموقع پر اس کا ثبوت نہ دے گا۔اگر وہ موقع پر بھاگ جاتا اور بزدلی ظاہر کرتا ہے تو کوئی اس کو شجاع نہیں کہہ سکتا۔اسی طرح سخاوت ایک عمدہ جو ہر ہے لیکن اگر اس کا اثر مال پر نہیں پڑتا تو وہ سخاوت نہیں بخل ہے۔ایسا ہی عفت ایک عمدہ صفت ہے ضرور ہے کہ جس میں یہ صفت ہو وہ بدنظری اور بے حیائی سے بچے اور تمام فواحش اور نا پاک کاموں سے پر ہیز کرے۔اسی طرح جس کے اندر قناعت ہوضروری ہوگا کہ وہ دوسروں کے مال پر بے جا تصرف سے پر ہیز کرے گا۔غرض یہ ضروری بات ہے کہ جب اندر کوئی بات ہو تو اس کا اثر جوارح اور مال پر ضرور ہوتا ہے۔پس اگر سچی نیازمندی ، فرمانبرداری، تحریک ملائکہ، کتابوں، ماموروں، خلفاء اور مصلحوں کی اطاعت میں ہو اور دل میں یہ بات ہو تو زبان پر ضرور آئے گی اور وہ اظہار کرے گا۔اگر سچائی سے کسی انسان کو مانا ہو ا ہو اور اس کے اظہار سے مضائقہ ہوتو یا درکھو دل کمزور ہے۔اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ کے اسماء پر کامل یقین ہو اور اس کے رسولوں پر، ملائکہ پر اور کتابوں اور انبیاء پر یقین ہو اور ایسا ہی اس یقین میں اس کے نواب اور اللہ کا قرب داخل ہے تو اس یقین کا اثر زبان پر آتا ہے اور وہ ایک لذت کے ساتھ کہہ اٹھتا ہے اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - بے ریب سید الاولین والآخرین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامل صفات والا انسان کل سچائیوں اور علومِ حقہ کا لانے والا ہے۔جب یہ اقرار اور وہ ایمان ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سچی نیازمندی کے ساتھ جناب الہی کے حضور پیش ہو اور یہی نماز ہے۔نماز ظاہری پاکیزگی اور ہاتھ منہ دھونے اور ناک صاف کرنے اور شرم گاہوں کو پاک کرنے کے ساتھ یہ تعلیم دیتی ہے کہ جیسے میں اس ظاہر پاکیزگی کوملحوظ رکھتا ہوں اندرونی صفائی اور پاکیزگی اور سچی طہارت عطا کر اور پھر اللہ تعالی کے حضور سبحانیت، قدوسیت، مجدیت پھر ربوبیت رحمانیت، رحیمیت اور اس کے ملک و ملک میں تصرفات اور اپنی ذمہ داریوں کو یاد کر کے کہ اس قلب کے ساتھ ماننے کو تیار ہوں۔سینہ پر ہاتھ رکھ کر تیرے حضور کھڑا ہوتا ہوں۔اس قسم کی نماز جب پڑھتا ہے تو پھر اس میں وہ خاصیت اور اثر پیدا ہوتا